خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 597
خطبات طاہر جلد ۵ 597 خطبہ جمعہ ۱۲ رستمبر ۱۹۸۶ء افَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِمِيْنَ بھلا ہو سکتا ہے کہ ہم مسلمانوں کو مجرموں کی شکل میں بنائیں یا مجرموں کو مسلمان قرار دے دیں۔تم کیا باتیں کر رہے ہو، کیسے فیصلے کر رہے ہو۔مجرم تم ہو تمہارے اعمال داغدار ہیں، ہر قسم کے گناہوں کے مرتکب ہو اور تم مسلمان بنے بیٹھے ہو اور جولوگ مجرم نہیں ہیں ان کو تم غیر مسلم قرار دے رہے ہو۔اتنا نہیں سوچتے کہ ہو کیسے سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مجرموں کی شکل پر بنا رہا ہو اور اس بات سے تو دنیا کا کوئی انسان بھی انکار نہیں کر سکتا کہ بعض ایسی سوسائٹیاں جو احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے رہی ہیں ہر قسم کے جرموں میں مبتلا ہو چکی ہیں۔سربراہان مملکت اقرار کر رہے ہیں کہ ہر قسم کے گناہ ، ہر قسم کی بدیاں ہماری زندگی کے ہر شعبے میں داخل ہوگئی ہیں اور ہم باوجود قوت رکھنے کے، باوجود اس کے کہ ہر قسم کی حکومت اور طاقتیں ہمارے ہاتھ میں تھیں اور ہم نے ان کو استعمال کرنا شروع کیا پھر بھی ہم قوم کے اخلاق بدلنے میں نا کام ہو چکے ہیں۔یہ اقرار بھی کرتے ہیں کہ نہ صرف نا کام ہو چکے ہیں بلکہ جس حالت میں ہم نے قوم پر قبضہ کیا تھا ساری کوششوں کے باوجود اخلاق کو بہتر بنانے کے بجائے ہم آج قوم کو بدتر حالت میں دیکھ رہے ہیں۔ہر شعبہ ہائے زندگی تباہ ہو چکا ہے۔یہ اقرار ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور وہ لوگ جن کے اخلاق بہتر ہیں، جن کو خدا تعالیٰ نے شرافت نجابت بخشی ہے اور اپنے عمل میں اور اپنے کردار میں وہ بعض ایسی صفات کے حامل ہیں کہ ان کے دشمن بھی یہ کہنے پر ضرور مجبور ہوتے ہیں کہ ہیں با اخلاق لوگ۔تو وہی مضمون جو اخلاق کا چلا تھا وہ یہاں پھر نمایاں ہو گیا اور اس کو اکیلا بیان فرمایا گیا ہے مقابل پر اس لئے کہ جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا اخلاق تو دنیا کو نظر آ جاتے ہیں اور وہ جو حضرت محمد مصطفی ﷺ کی باقی صفات بیان ہوئی تھیں وہ اتنی اعلیٰ ہیں کہ عام دنیا کی نظر میں وہ بعض دفعہ غیر مرئی ہو جاتی ہیں۔نہایت ہی لطیف صفات ہیں اور نہایت ہی لطیف خدا تعالیٰ کے سلوک ہیں آپ کی ذات کے ساتھ ، ہو سکتا ہے کہ ایک عام دنیا دار کو نظر ہی نہ آتے ہوں۔پس ممکن ہے کہ احمدیوں کے ساتھ بھی جب خدا کے وہ سلوک ہوں درست ہے کہ ہمارے ساتھ اس سلوک کو وہ نسبت ہوگی جیسے آقا اور غلام کے ساتھ سلوک میں فرق ہوتا ہے۔لیکن اچھے آقا کے اچھے غلام کے ساتھ ملتا جلتا سلوک ضرور ہوا کرتا ہے۔اسلئے میں یہ نہیں کہتا کہ ہم سے وہی سلوک خدا کا ہوتا ہے جو حضرت محمد مصطفی ﷺ سے ہوا مگر