خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 596
خطبات طاہر جلد۵ 596 خطبه جمعه ۲ ار ستمبر ۱۹۸۶ء کے لائق نہیں۔وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلافٍ مَّهِينٍ صرف اس لئے نہیں کہ یہ مجنون ہیں بلکہ اس لئے کہ جھوٹے بھی بہت ہیں ، بڑی بڑی لفاظی کے ساتھ جھوٹی قسمیں کھانے والے لوگ ہیں اور کمینہ صفت لوگ ہیں۔اس لئے کمینے آدمی جو مجنون بھی ہوں اور جو خدا تعالیٰ کی جھوٹی قسمیں کھانے والے ہوں ہر خلق حسن اور حسن خلق سے عاری ہوں۔ان لوگوں کی بات مان کر سوائے اس کے کہ کوئی اپنا نقصان کرے اس سے زیادہ تو اس کو کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔احمدیوں کے لئے ان آیات میں بہت گہرا سبق ہے۔یہ وہ کسوٹی ہے جس پر ہم اپنے حسن و فتح کو ہر وقت دیکھ سکتے ہیں۔یہ وہ آئینہ ہے جس میں ہم اپنا چہرہ دیکھ کر معلوم کر سکتے ہیں کہ کس حد تک ہم حضرت اقدس محمد اللہ کے نقش قدم پر ہیں اور ہدایت پر ہیں اور کس حد تک ہم گمراہوں کے نقش قدم پر ہیں اور ان کی پیروی کر رہے ہیں۔اور یہی وہ صفات ہیں جو فیصلہ کن ثابت ہوں گی۔ان کے ہاتھ میں ن اور قلم پکڑائے جائیں گے جو ان صفات کے حامل ہوں۔خدا کی تحریر میں ان کے حق میں جاری ہوں گی جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی ان صفات کی پیروی کرنے والے ہوں۔پس ن اور قلم اور وَ مَا يَسْطُرُونَ کی قسم کھانے کا ایک یہ بھی مفہوم ہے کہ ہم تو اسے مالک تقدیر اور مالک تحریر بنانے والے ہیں۔ہماری تقدیر اور تحریر گواہ ہے کہ یہی ہے بالآخر جو ہماری تقدیر کا نمائندہ بننے والا ہے اور تم اسے اپنی حماقت اور جہالت میں مجنون قرار دے رہے ہو۔چنانچہ اس مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے خدا تعالیٰ نے پھر آنحضرت ﷺ کو مزید خوشخبریای عطا فرمائیں اور آپ کے دشمنوں کی بعض اور صفات بیان فرمائیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کتنے راہ حق سے دور ہوچکے ہیں اور ان کے عمل اور ان کے کردار کو ان کے ایمان کے لئے کسوٹی قرار دے دیا۔چنانچہ اسی مضمون کی برعکس صورت دکھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِمِينَ مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ (القلم: ۳۵) اس آیت کا عموماً پہلی آیت جو میں نے پڑھی ہے اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِمِینَ اس کا عموماً آپ اردو میں یہ ترجمہ دیکھیں گے کہ کیا ہم مسلمانوں سے مجرموں والا سلوک کریں گے یا کرسکتے ہیں۔مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ تمہیں کیا ہو گیا ہے۔تم کیسے فیصلے کرتے پھر رہے ہو۔یہ معنی بھی بامحاورہ ہے اور درست ہے لیکن پہلا معنی جو لفظاً اس آیت کا ظاہر ہوتا ہے وہ اور ہے۔وہ یہ ہے کہ