خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 595 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 595

خطبات طاہر جلد۵ 595 خطبه جمعه ۱۲ رستمبر ۱۹۸۶ء اور ساتھ ہی یہ اعلان کیا گیا کہ تیرے مخالفین میں ان ساری صفات کا عدم پایا جاتا ہے۔اس کے برعکس صفات پائی جاتی ہیں اور جس میں ان صفات کے برعکس صفات پائی جائیں وہ لازماً مجنون ہوا کرتا ہے۔جن کا ہر عمل بریکار ثابت ہو، جن کی ہر کوشش بے ثمر ہو۔جن کو اللہ تعالیٰ کے احسانات کا تعارف ہی کچھ نہ ہو کہ خدا کس طرح قدم قدم پر اپنے پیاروں پر فضل نازل فرمایا کرتا ہے۔یہ مزہ نہ چکھا ہو جن لوگوں نے۔جن لوگوں کو علم و فہم سے کوئی واسطہ نہ ہو اور بدخلق لوگ ہوں ،اخلاق حسنہ سے عاری ہوں یہ سب مجنون کی علامت ہوا کرتی ہے۔تو فرمایا کہ تو مجنون نہیں ہے، تیرے مخالف سارے لازماً مجنون ہیں اور یہ بات ہم کھولنے والے ہیں تو بھی دیکھے گا اور یہ بھی دیکھیں گے اور بالآخر روز روشن کی طرح یہ حقیقت دنیا کے سامنے آ جائے گی کہ محمد مصطفی ہے ہر اس صفت سے مزین تھے جو جنون کے برعکس صفت کہلاتی ہے، اس کی ضد ہے اور آپ کے مخالفین ہر وہ صفت رکھتے تھے جس کے نتیجے میں جنون پیدا ہوتا ہے یا جو جنون کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهِ وَهُوَ اعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ 0 پھر فرمایا تیرا رب ہی ہے جو بہتر جانتا ہے کہ راہ حق سے کون ہٹا ہوا اور گمراہ ہے اور کون ہے جو ہدایت یافتہ ہے۔پس رب کے بیان کے مطابق یہ وہ صفات ہیں جو ظاہر کریں گی کہ کون ہدایت پر ہے اور کون ہدایت سے دور ہے۔یہ مراد نہیں کہ یہ سب کچھ بیان کرنے کے باوجود بھی ابھی تک تیرا معاملہ مشکوک ہے۔یعنی ان سب صفات کے حامل ہونے کے باوجود خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ میں ہی بہتر جانتا ہوں کون ہدایت پر ہے۔ہر گز یہ مراد نہیں ہے۔مراد یہ ہے کہ ہم جو جانتے ہیں کہ کون ہدایت پر ہے اور کون گمراہی پر ہے۔ہم بتا رہے ہیں کہ جو ہدایت پر ہوتے ہیں ان کی یہ صفات ہوا کرتی ہیں اور جو گمراہ ہوتے ہیں وہ ان صفات سے عاری ہوتے ہیں۔فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِينَ اس نے اس مضمون کی تصدیق کر دی۔پس چونکہ تو خدا تعالیٰ کے نزدیک ہدایت پر ہے۔اس لئے ان جھٹلانے والوں کی کسی بات کی پیروی نہیں کرنی۔وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ یہ ہوشیاری کرتے ہیں اور دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں اور کہتے ہیں بس اتنی سی ہماری بات مان جاؤ تو ہم تم سے نرمی کریں گے اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اتنی سی بات بھی ان کی ماننے کے لائق نہیں۔جو مجنون ہو جو کلیۂ مفتون ہو، جس کی عقل پر خبط سوار ہو چکا ہو اس شخص کی ایک ذرہ سی ، ادنی سی بات بھی ماننے