خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 594 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 594

خطبات طاہر جلد۵ 594 خطبه جمعه ۱۲ار تمبر ۱۹۸۶ء تو اس طرح فرمایا کہ تو تو اخلاق کا شہسوار ہے، عظیم اخلاق پر خدا تعالیٰ نے تجھے مقدرت بخشی ہے۔ان تین صفات میں سے لَعَلَى خُلُقٍ عَظِیمِ والی صفت کو حضرت خدیجہ بھی پاگئیں اور اس سے ان کی بصیرت کا پتہ چلتا ہے۔جب حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو اپنے متعلق فکر لاحق ہوئی کہ مجھ سے کیا واقعہ ہو گیا ہے۔تو اس وقت حضرت خدیجہ نے آپ کو یہ کہہ کر تسلی دلائی تھی کہ آپ میں یہ عظیم اخلاق پائے جاتے ہیں اور اتنے عظیم اخلاق کے مالک کو خدا تعالیٰ ضائع نہیں کر سکتا۔پس جو کچھ بھی واقعہ ہوا ہے اس کا یہ معنی بہر حال نکالنا غلط ہے کہ اس سے آپ کو کوئی نقصان پہنچ سکے گا۔آپ محفوظ مقام پر ہیں کیونکہ آپ اعلیٰ اخلاق پر فائز ہیں اور جولوگ اعلیٰ اخلاق پر فائز ہوں خدا انہیں ضائع نہیں کیا کرتا۔پس حضرت خدیجہ کونَ وَالْقَلَمِ وَ مَا يَسْطُرُونَ کو پہچاننے کی تو کوئی مقدرت نہیں تھی کیونکہ یہ تو خدا تعالیٰ جو راز دان تھا حضرت محمد مصطفی ﷺ کی اعلیٰ فکری اور علمی ترقی کا وہی بتا سکتا تھا۔آپ کو ابھی تک یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ خدا تعالیٰ کی کتنی عظیم الشان نعمت آپ کو ملنے والی ہے یا میسر آ چکی ہے اور نہ اجر غیر ممنون کا سلسلہ ابھی آپ نے دیکھا تھا۔لیکن خلق عظیم ایک ایسی چیز ہے جو ظاہر ہوتی ہے جسے ہر انسان دیکھ سکتا ہے اور ہر صاحب بصیرت پہچان سکتا ہے۔پس آپ نے جود یکھا اس کا نتیجہ بالکل صحیح اخذ کیا۔ب یہ صفات پائی جائیں کسی میں اس کے بعد یہ ممکن نہیں کہ خدا تعالیٰ اسے ضائع کر دے۔پس فرمایا فَسَتُبْصِرُ وَ يُبْصِرُونَ بِاَتِكُمُ الْمَفْتُونُ یہ بات بتاتی ہے کہ یہ صفات جہاں عقلِ کل اور انتہائی اعلیٰ فکر وتدبر اور زینت اخلاق کی مظہر ہیں ان کے ہوتے ہوئے جنون کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔یعنی جنون کے منافی صفات ہیں یہ ساری۔جس کسی کو بادشاہ قلم قرار دے دیا جائے ، کسی کو تحریر کا سلطان قرار دے دیا جائے ، کسی کو عقل و فہم اور خلق عظیم کا شہسوار قرار دے دیا جائے اور اللہ تعالیٰ کے لامحدود احسانات کا مورد قرار دے دیا جائے اور کسی شخص کو یہ ضمانت دے دی جائے کہ تیرے ہر فعل کا بہترین لامتناہی اجر ملتا چلا جائے گا۔یہ ساری باتیں آنحضرت مے کے متعلق بیان فرما دی گئیں۔اس کے بعد یہ فرمانا کہ فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُونَ۔بِأَسْكُمُ الْمَفْتُونُ دو باتوں کو ظاہر کر رہا ہے۔اول یہ کہ یہ ساری باتیں جنون کی نفی کرنے والی ہیں۔مجنون میں یہ صفات اکٹھی ہو ہی نہیں سکتیں بلکہ ان میں سے ایک صفت بھی مجنون میں نہیں ہوتی