خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 559
خطبات طاہر جلد۵ جن کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔559 خطبه جمعه ۵ ار اگست ۱۹۸۶ء بعض دوست اس بات سے گھبرا گئے ہیں کہ اب تو قریباً ہر جمعہ میں نماز جنازہ غائب ہونے لگی ہے تو ان کے لئے میں یہ بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر چہ یہ عام دستور نہیں ہے مگر موجودہ حالات میں پاکستان میں جو احمد کی وفات پاتے ہیں یا حادثوں کا شکار ہوتے ہیں۔احساس محرومی کا ایک خطرہ ان کے اوپر لٹکا رہتا ہے۔ان کی عموماً یہ خواہش ہوتی ہے کہ ہمارا جنازہ ربوہ جائے اور وہاں خلیفہ وقت نماز جنازہ پڑھائے۔عام حالات میں ضروری نہیں ہوتا کہ ہر ایک کی نماز جنازہ خلیفہ وقت ہی پڑھا رہا ہو لیکن یہ احساس کہ نہیں پڑھا سکتا اس وقت ، اس خیال سے احساس محرومی کو زیادہ عام کر دیا ہے جتنا عملاً ہے یعنی ربوہ میں جب میں تھا تو اس سے بہت کم جنازے پڑھائے جاتے تھے لیکن اب چونکہ ہر ایک کو یہ احساس ہے کہ شاید یہاں ہوتا تو ہمارا جنازہ وہ بھی پڑھا سکتا۔بعض لوگ مجھے لکھتے رہتے ہیں کہ اگر ایسا واقعہ ہو تو یوں ہونا چاہئے اور بعض کے ورثاء لکھتے ہیں کہ انکی خواہش تھی۔بعض ورثاء اپنی خواہش کے طور پر لکھتے ہیں کہ ہماری خواہش ہے کہ آپ پڑھا ئیں۔اس لئے دل میں نرمی تو ہے ہی لیکن نسبتاً اس موقع پر عام دستور سے ہٹنے پر دل آمادہ ہو جاتا ہے۔اس لئے جو دوست ہر بار جمعہ پر جنازہ پڑھتے ہیں تو وہ گھبرائیں نہیں صبر سے کام لیں۔کیا فرق پڑتا ہے چند منٹ کی بات ہے۔جنازے میں ثواب ہی ہے ان کے لئے بھی اور ہمارے لئے بھی۔پھر بعض ایسے ہوتے ہیں جن کا ذاتی طور پر استحقاق بھی ہوتا ہے مثلاً ایک درویش ہے اس نے ساری عمر وفا سے قادیان میں قید خانے میں وقت کاٹا۔اگر چہ اب ویسا قید خانہ نہیں رہا لیکن ایک لمبے عرصے تک ساری جماعت کے لئے فرض کفایہ کے طور پر انہوں نے قید برداشت کی ہے اور بھی بعض صحابہ ہیں، بعض مظلوم ہیں حادثوں کا شکار ہیں۔ان کی نماز جنازہ غائب پڑھنی تو ویسے ہی مستحب ہے۔ا۔مکرم قریشی عبداللطیف صاحب ابن قریشی محمد جان صاحب اوکاڑہ۔یہ ہمارے قادیان کے ایک درویش کے برادر نسبتی ہیں۔۲۔قادیان کے ایک درویش مرزا اعظم علی بیگ ہیں۔انکے متعلق مکرم ناظر صاحب اعلیٰ قادیان نے نماز جنازہ غائب پڑھانے کی بشدت درخواست کی ہے۔