خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 554 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 554

خطبات طاہر جلد۵ 554 خطبه جمعه ۵ اراگست ۱۹۸۶ء آئے کوشش کا اس کوشش کو نہیں چھوڑ نا کیونکہ صلوۃ میں جو مفہوم پایا جاتا ہے عمل کا اس میں صرف عام عمل نہیں بلکہ ورزش ہے۔ورزش کا مفہوم کوشش کو انتہاء تک پہنچانے کے معنی رکھتا ہے۔اتنی کوشش کرنا کہ بدن تھک جائے اور اس سے زیادہ کوشش انسان کو ہلاک کرنے کا موجب بن سکتی ہو اور اتنی کوشش کرنا کہ جو اپنی استطاعت کی حد کے اندر ہو اس سے آگے نہ بڑھے کیونکہ وہ ورزش جو استطاعت سے آگے بڑھ جائے وہ مار دیا کرتی ہے، نقصان پہنچاتی ہے، اسے صلوۃ کہتے ہی نہیں۔ورزش کے مفہوم میں یہ بات داخل ہے کہ اتنی کوشش کہ تھکا تو دے مگر جسم کو نقصان نہ پہنچا سکے۔اگر نقصان پہنچانے والی ورزش ہے تو اس کا نام ورزش رہے گا ہی نہیں ، اس کا نام تو سزا ہو جائے یا بیگار ہو جائے گا۔اس لئے صلوۃ کا معنی یہاں یہ بنے گا کہ حد استطاعت تک کوشش کرو، ایسی کوشش کرو جو تمہاری طاقت بڑھاتی رہے، تمہارے اندر مزید قوت عمل پیدا کرتی رہے۔تمہیں عمل سے متنفر کرنے والی یا تمہاری عملی طاقتوں کو کمزور بنانے والی کوشش نہ ہو۔صبر کے مفہوم میں غم کا پہلو بھی ہے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ایک اندرونی آگ میں جلنا بھی اس کے مفہوم میں داخل ہے اور اکثر دنیا والے اس سے خوب واقف ہیں۔اسی لئے بعض ماہرین نفسیات صبر کے خلاف تلقین کرتے ہیں۔وہ یہ کہتے ہیں کہ صبر کرنا یعنی اپنے غم کو اپنے دکھ کو اپنی ذات میں محدود رکھ کر اس پر بیٹھ رہنا یہ نفسیاتی لحاظ سے انسان کے لئے مضر ہے بلکہ مہلک بھی ثابت ہوسکتا ہے۔اس لئے وہ لوگ جوصبر کرتے ہیں ان کے نزدیک وہ کئی قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اس لئے بعض دفعہ اگر غیر معمولی صبر کرنے کی کوشش کی جائے مثلاً آنسو نہ نکلیں یا واویلا نہ کرے کوئی شخص تو کہتے ہیں وہ پتھر ہو گیا اور اس کے نتیجہ میں اسے گہری نفسیاتی بیماریاں لگ جاتی ہیں جو بعد میں جسمانی عوارض میں بھی تبدیل ہو جاتی ہیں۔اس کا کیا علاج خدا تعالیٰ مومن کو بتاتا ہے؟ ایک علاج تو استَعِينُوا کے لفظ میں ہمیں دے دیا کہ واویلا تو نہیں کر نالیکن مر ضرور مانگتی ہے اور بڑے زور کے ساتھ مانگتی ہے اور مستقل ما نگتے چلے جانا ہے۔مدد مانگنا واویلے کا بدل ہے۔مایوسی کے نتیجہ میں واویلا پیدا ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ جو مومن کوصبر سکھاتا ہے اس کے نتیجہ میں دعا نکلتی ہے دل سے اور خدا سے مدد مانگنے کی طرف توجہ مبذول ہوتی ہے۔ایک اس کا Outlet، ایک نکاس کا رخ اول رکھ دیا ہے اس آیت کے شروع میں اور ایک