خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 553 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 553

خطبات طاہر جلد ۵ 553 خطبه جمعه ۵ ار اگست ۱۹۸۶ء چونکہ قبول نہیں ہوئی اس لئے اب دعا کرنا عبث ہے۔چنانچہ انبیاء کی جو دعائیں قرآن کریم میں ملتی ہیں ان میں یہ مضمون بھی بیان ہوا ہے کہ صبر کے ساتھ دعائیں کرنے والے نبی بعض ایسے تھے جنہوں نے آخر خدا کو پکار کے یہ کہا کہ ہماری دعاؤں میں اتنا صبر ہے کہ ہمارے بال سفید ہو گئے ، ہماری ہڈیاں گل گئیں اور بظاہر ناممکن ہے کہ اس حالت میں اولا دعطا ہولیکن اے خدا! دیکھ میری دعا کا صبر کہ آج بھی اس یقین کے ساتھ دعا کر رہا ہوں کہ کبھی میں تجھ سے دعائیں مانگتے ہوئے بے بخت ثابت نہیں ہوا ، بد نصیب ثابت نہیں ہوا۔تو صبر کے اس مضمون کو اس نے اور بھی کئی چاند لگا دیئے۔محاورہ تو چار چاند لگانے کا ہے مگر میں نے عمداً کئی چاند کہا ہے۔حیرت انگیز طور پر یہ مضمون لامحدود ہو جاتا ہے۔صبر کر واستعانت کے ساتھ ، خدا سے دعا مانگتے ہوئے یعنی ہمیشہ اس یقین پر قائم رہو کہ تمہاری مصیبت تمہیں مغلوب نہیں کر سکے گی۔دوسرے دعا میں صبر کرو اور دعا کا دامن کبھی نہ چھوڑو۔یہ دو باتیں جب ایک دوسرے کے ساتھ پیوستہ ہوتی ہیں، ایک دوسرے کو طاقت دیتی ہیں تو صبر کا مضمون جو ہے عظیم الشان بن جاتا ہے اور لامحدود ہو جاتا ہے۔اس کے ساتھ ہی فرمایا وَ الصلوۃ صلوۃ اور صبر کا کیا تعلق ہے؟ اس کے کئی تعلق ہیں۔صلوۃ کے معنی بھی مختلف ہیں ان مختلف معانی کے ساتھ صبر اور صلوٰۃ کا تعلق نئے نئے روپ دھارتا رہتا ہے، نئی شکلوں میں سامنے آتا ہے۔صلوۃ کا ایک معنی کوشش اور جد و جہد اور ورزش بھی ہے۔چنانچہ اس پہلو سے جب ہم اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوۃ پڑھتے ہیں تو مراد یہ ہے کہ محض دعائیں نہ کرو بلکہ عمل بھی ساتھ کرو۔محض دعا پر اس طرح انحصار نہیں کرنا صبر میں کہ اے خدا ! ہم تو اب کچھ بھی نہیں کر سکتے سب کچھ تجھ پر چھوڑ کر بیٹھ گئے ہیں اس کو ہاتھ تو ڑ کر بیٹھ جانا کہتے ہیں۔فرمایا نہیں مومن کی یہ شان نہیں ہے جتنی طاقت ہے اس طاقت کو ساتھ ساتھ استعمال کر کے اپنی قوت عمل کو مرنے نہیں دینا بلکہ ہمیشہ اسے بھی زندہ رکھنا ہے۔تو دعا اور صبر اور صلوٰۃ کا یہ رشتہ مومن کی زندگی کی ایک عجیب تصویر کھینچتا ہے جو دنیا کے صبر کرنے والوں میں کہیں دکھائی نہیں دیتی۔دعائیں کرتے رہنا ہے دعاؤں کے ساتھ یقین رکھنا ہے کہ تم نا کام نہیں ہو گے۔اس یقین کے ساتھ جس حد تک بھی تمہیں خدا تعالیٰ نے توفیق بخشی ہے اس توفیق کے مطابق عمل کو زندہ رکھنا ہے اور ہر میدان میں ہر جہت سے جہاں بھی تمہیں کوئی امکان نظر