خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 547 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 547

خطبات طاہر جلد ۵ 547 خطبه جمعه ۱۸ اگست ۱۹۸۶ء تعالی مزید وسعتیں دیں گے ۔ گزشتہ سال بھی مساجد کی توسیع اور مساجد کی تعمیر کا سال تھا یہ سال ؟ بھی انشاء اللہ تعالیٰ اس پہلو سے اس کام کو آگے بڑھانے کا سال ہوگا اور مساجد کے ساتھ مشنز ہیں ۔ بعض خدا کے فضل سے بہت عظیم الشان مشنز خدا تعالیٰ نے پچھلے سال بنانے کی توفیق عطا فرمائی ۔ امسال بھی خدا تعالیٰ توفیق عطا فرمائے گا تو ہمارا منصوبہ یہ ہے کہ بالکل نئے ممالک میں جہاں پہلے مشن اور مساجد قائم نہیں تھیں وہاں انشاء اللہ تعالیٰ مشن اور مساجد کی تعمیر کی کوشش کی جائے گی۔ تیسرا دعوت الی اللہ ہے۔ اس میں ابھی تک ہم خواہش کے مطابق داعین الی اللہ پیدا نہیں کر سکے تو یہ سال اس پہلو سے دعوت الی اللہ پر زور دینے کا سال ہونا چاہئے اور چوتھا جو نیا پروگرام ہے یہ تین پروگرام پہلے سے چل رہے ہیں ۔ چوتھا جو نیا پروگرام ہے۔ وہ ہے تو بہت ہی پرانا لیکن وہ عام طریق پر جاری ہے، غیر معمولی شدت صلى الله اور قوت کے ساتھ اسے ہم نے گزشتہ سال میں اپنایا نہیں، وہ ہے سیرت کے جلسوں کو فروغ دینا ۔ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی سیرت ہی سے دنیا نے نجات پانی ہے۔ اگر صرف قرآن کریم کا پیغام ہم دیں اور ساتھ سیرت کا نمونہ پیش نہ کریں تو وہ پیغام نا مکمل ہوگا ، آدھا ہوگا۔ ہے تو مکمل لیکن انسان زندہ انسانوں کے ساتھ رابطے میں آکر ایک پہلو سے وہ آدھا نظر آتا ہے۔ وہ پیغام جو مکمل ہو اور اسے مکمل طور پر عمل کے سانچے میں ڈھالنے والے وجود نہ ہوں اس پہلو سے وہ آدھا رہ جاتا ہے کہ پروگرام تو بہت اچھا ہے لیکن واقعہ انسانوں کی زندگی پر اثر انداز ہو بھی سکتا ہے کہ نہیں ۔ واقعہ انسان اس قابل ہیں بھی کہ نہیں کہ اس کے متحمل ہو سکیں ، اس پروگرام کو اپنے اعمال میں جاری کریں، اپنی سیرت میں ڈھالیں، یہ ممکن ہے کہ نہیں۔ اس کے لئے ایک عملی نمونہ کی ضرورت ہے اور قرآن کریم نے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی ذار علیم کی ذات میں وہ نمونہ صلى الله ہمارے سامنے پیش کر دیا۔ سیرت کے جلسوں پر اس سال غیر معمولی زور دینا ہے اور قرآن کریم کی اشاعت کے ساتھ یہ مضمون ایسا ایک ازلی ابدی رابطہ رکھتا ہے کہ پوری طرح بات مکمل ہو جائے گی اور جو آیت میں نے پڑھی ہے اس آیت کی ایک تصویر ہم کھینچ دیں گے۔ یعنی اس کی تفسیر کی ایک تصویر کھینچ رہے ہوں گے دنیا میں ۔ فرماتا ہے اِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ قرآن کریم کی اشاعت کلام طیب کی اشاعت ہے اور حضرت محمد مصطفی ﷺ کے سیرت کے مضمون کو شہرت دینا اور دنیا میں پھیلانا اس عمل صالح ہی کی ایک تصویر کھینچنا ہے جس سے کلام طیب میں جان پڑ جاتی ہے۔ ایک فرض