خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 546
خطبات طاہر جلد۵ 546 خطبه جمعه ۸/ اگست ۱۹۸۶ء وہ جماعت ہیں جس کا بڑے پیار کے ساتھ آنحضرت علیہ کے غلاموں کے زمرہ میں ذکر کیا گیا ہے۔اس پہلو سے جو سال نو کے پروگرام ہیں وہ تو بہت تفصیلی ہیں اور انشاء اللہ جماعت کو وقتاً فوقٹا دیئے بھی جاتے رہیں گے اور پہلے بھی بہت سے حصے کھول کر بیان ہو چکے ہیں۔جس قسم کے کام ہم پچھلے سال کرتے رہے ہیں اسی قسم کے کام ہم نے اب بھی کرنے ہیں۔پہلے سے زیادہ شدت سے کرنے ہیں ، پہلے سے زیادہ اخلاص اور محبت سے کرنے ہیں، پہلے سے زیادہ ذمہ داری کے احساس سے کرنے ہیں، پہلے سے زیادہ دعائیں کرتے ہوئے وہ کام کرنے ہیں۔ان میں تین چار ایسے بنیادی کام ہیں جن کی طرف میں آپ کو آج توجہ دلا دیتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالیٰ نیک اعمال میں سب سے زیادہ زور ہم ان باتوں پر اس سال دیں گے۔اول اشاعت قرآن کریم، کیونکہ اشاعت قرآن کریم میں عالم اسلام عالم عیسائیت سے بہت ہی پیچھے رہ گیا ہے اور جب بھی نظر پڑتی ہے اس موازنہ پر تو شرم سے دل کٹنے لگتا ہے۔کروڑ ہا کروڑ مسلمان موجود ہو اور خدا تعالیٰ نے دولت کی ریل پیل کردی ہو بعض ممالک میں اور قرآن کریم کی اشاعت سے غافل ہوں۔تو قرآن کریم کی اشاعت کا کام بھی ہم نے سنبھالنا ہے۔مساجد کو ایسے ملکوں میں بنانا جہاں پہلے اس سے خدا تعالیٰ کی توحید کے گیت نہیں گائے جاتے رہے، جہاں پہلے اذانیں بلند نہیں ہوئیں۔تو دراصل یہ ان کے منفی کردار کا ایک مثبت جواب ہے جو خدا تعالیٰ نے ہمیں سکھایا ہے۔قرآن کریم کی اشاعت پر وہ جتنی پابندیاں لگارہے ہیں خود نہ کرنے کے باوجود دوسروں کو بھی روک رہے ہیں۔اس کا ایک ہی جواب ہے جماعت احمدیہ کے پاس کہ پہلے سے کئی گنا زیادہ مضبوط ارادوں اور مخلصانہ اور عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ اور تمام تر ایثار اور قربانی کے ساتھ اشاعت قرآن کریم کی طرف توجہ دیں اور پچھلے سال جو خدمت کی توفیق ملی ہے اس سے زیادہ اس سال خدمت کرنے کا عزم لے کر اس سال کو شروع کریں اور مجھے یقین ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ اس سے بڑھ کر خدمت کی توفیق ملے گی۔دوسرا مساجد کے متعلق بھی ایک ایسا پروگرام ہے جو جماعت کا ہمیشہ سے جاری ہے لیکن اس پروگرام میں ان کے منفی رویہ کو بھی ایک دخل ہے۔انہوں نے مساجد پر حملہ کرنا شروع کیا ہے۔قرآن کے بعد مساجد پر حملہ ہے، ہر اسلام کی بنیاد پر حملہ ہے۔اس لئے اس کے مقابل پر ہم مساجد کو انشاء اللہ