خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 545 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 545

خطبات طاہر جلد۵ 545 خطبہ جمعہ ۸/اگست ۱۹۸۶ء سے بنائی گئی ہوا گر ہوا ہی نہ چل رہی ہو ، ساکن ہو سب کچھ تو بالکل نہیں اڑ سکتی۔وہ جہاز جو بالکل مکمل ہو ہر پہلو سے لیکن نہ اس میں جیٹ کی طاقت کام کر رہی ہو نہ اس کے پنکھے ہوں ہوا تیز چلانے والے تو نہیں اڑ سکے گا خواہ کیسا ہی کامل ہو۔تو ڈیزائن سے یا صنعت سے زندگی پیدا نہیں ہوتی۔زندگی پیدا کرنے کے لئے کوئی اور صورت ہونی چاہئے۔چنانچہ روحانی زندگی کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ محض بلند اور شاندار پروگرام پیش کرنے سے زندگی نہیں ملے گی ، جب تم عزتیں نہیں پاؤ گے آسمان پر، تمہارا نام آسمان تک بلند نہیں ہو سکتا وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ عمل صالح کرو گے تو پھر تمہارے نام آسمان تک پہنچیں گے اور آسمان کے روشن ستاروں میں تم شمار کئے جاؤ گے۔اس پہلو سے بھی ان کے بلند بانگ دعاوی کی حقیقت سامنے آگئی ، ان کی عزتوں کی یا ذلتوں کی باتیں کرنے کی حقیقت سامنے آگئی۔اور ان تین آیات میں ان کے پروگراموں اور ان کے حالات کا ہمارے پروگراموں اور ہمارے حالات سے ایک مکمل مواز نہ ہو گیا۔اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے یہ تسلی دے دی۔وَالَّذِينَ يَمْكُرُونَ السَّيَّاتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَكْرُ أو ليكَ هُوَ يَبُورُ کہ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ان کو اپنی بداعمالیوں کے نتیجہ میں شدید عذاب ملے گا، ہو سکتا ہے بعض لوگ کہیں کہ ملے گا تو ہمیں کیا یا ہمیں اس کی بھی تکلیف ہے۔ہمیں تو اس بات کا تعلق ہے کہ جو ہمارے متعلق وہ شرارتیں کر رہے ہیں ان کا کیا ہوگا۔اس کا جواب ساتھ ہی فرمایا وَ مَكْرُ أُولَيكَ هُوَ يَبُورُ ہم تمہیں ضمانت دیتے ہیں کہ ان کے سارے مکر تمہارے متعلق باطل اور بے نتیجہ ثابت ہوں گے اور ہر گز ان کو کوئی پھل نہیں لگے گا۔تو جس جماعت کے ذکر خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں چودہ سو سال پہلے محفوظ کر دیئے ہوں ، جس کے نقوش نقطہ بنقطہ ، مو بموقرآن کریم کی چند آیات میں موجود ہوں۔جس کے خطرات کے جواب بھی ہوں ، جس کی امیدوں کے لئے یقین دہانیاں بھی ہوں ، جس کے دشمنوں کے نقشے بھی کھینچے گئے ہوں اور انکی لازماً انجام کار نا کامی کی تحدی کے ساتھ خبر میں دے دی گئی ہوں، اس۔جماعت کو کیا خطرہ ہے۔صرف ایک بات پیش نظر رہنی چاہئے کہ ان تمام آیات کا مرکزی نقطہ عمل صالح ہے۔اگر ہم اپنے عمل صالح میں ترقی کریں گے اپنے اعمال کو بہتر سے بہتر بناتے چلے جائیں گے تو یہ سارے وعدے ہمارے حق میں پورے ہونگے اور ہمارے پاس یقین دہانی کی وجہ ہوگی کہ ہاں ہم ہی