خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 537
خطبات طاہر جلد۵ 537 خطبہ جمعہ یکم اگست ۱۹۸۶ء جنازہ پڑھی جائیں گی اور ان میں سے ایک حاضر ہیں یعنی احتجاج علی صاحب زبیری ، یہ اٹک سے تشریف لائے تھے۔ان کے مجھے بار بار بڑے دردناک پیغام مل رہے تھے۔لکھ رہے تھے کہ مجھے اندازہ ہورہا ہے کہ میری وفات کا وقت قریب ہے اور مگر میری بڑی شدید تمنا ہے کہ آپ آئیں تو میں وفات پاؤں یا آپ میرا جنازہ پڑھائیں۔تو اللہ کے فرشتے ان کو یہاں لے آئے اور یہاں آکران کی وفات ہوئی۔معلوم ہوتا ہے اپنی اس تمنا میں بہت ہی صادق تھے اور بہت بے قراری تھی چنانچہ خدا تعالیٰ نے ان کو جلسہ کے بہانے یہاں بلایا اور پھر یہیں ان کی وفات کا وقت آیا۔غائبانہ چار جنازے مکرمہ صفیہ سلطانہ صاحبہ ملک عبدالقادر صاحب لاہور میں دارالذکر کے پاس رہتے تھے ان کی بیگم تھیں موصیہ تھیں۔ان کے بچے بھی بڑے مخلص خدام الاحمدیہ کے کاموں میں پیش پیش ، ایک بچہ ان کا وہاں گھو کہلاتا تھا وہ دارالذکر میں مہمان نوازی کے کاموں میں بہت پیش پیش ہوا کرتا تھا۔اسی نے لکھا ہے اپنی والدہ کے لئے۔مکرم خائف احمد صاحب ہمارے مبارک احمد صاحب پانی پتی لاہور کے مخلص احمدی ہیں ان کے داماد ہیں لیق ان کے بھائی نو جوانی کے عالم میں بالکل یہ دل کے حملے سے فوت ہو گئے۔غالباً حکیم صاحب مرہم عیسی (والے) کے پوتے تھے۔لئیق بھی اپنے خسر مبارک احمد صاحب پانی پتی کیسا تھ جلسے کی شمولیت کے لئے آرہے تھے تو کراچی میں جن احمدیوں کو روکا گیا ہے اسلام کی خدمت کے اظہار کے طور پر ان میں ایک یہ بھی شامل ہیں۔ان کے لئے بھی دعا کریں اللہ تعالیٰ ان کو بہترین جزا دے اس تکلیف کی۔چوہدری نواب خان صاحب کوٹ ہر اسنگھ ضلع گوجرانوالہ نوے سال کی عمر میں وفات پائی۔ابتدائے جوانی میں ہی احمدیت کو قبول کیا اور پھر کافی ارد گرد تبلیغ کر کے بہت سے دوسروں کے لئے ہدایت کا موجب بنے۔غلام احمد صاحب بشیر ہیگ کے کسی زمانہ میں واقف زندگی تھے پھر ابتلاء بہت سخت آیا پھر پیچھے ہٹے پھر پیغامی ہو گئے۔اخراج از جماعت بھی ہوا۔آخری دور میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل سے بچالیا اور بہت گریہ وزاری سے استغفار بھی کرتے رہے اور معافی کا خط لکھتے رہے جماعت سے رپورٹ منگوائی تو انہوں نے کہا کہ واقعہ خدا تعالیٰ ن بچی تو بہ کی توفیق بخشی ہے اور کبھی بھی شرارت