خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 536 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 536

خطبات طاہر جلد ۵ 536 خطبہ جمعہ یکم اگست ۱۹۸۶ء گئے ۔ کچھ میرا خیال ہے ابھی کھانا کھانے والے بھی ہوں گے اس لئے اتنا ہی مضمون آج کے لئے کافی ہے۔ دعا کے لئے میں یہ تحریک کرتا ہوں ، جاتے ہوئے بھی دعا کرتے چلے جائیں ۔ بدنیتیں کم ہونے کی بجائے بڑھتی جا رہی ہیں ، ارادوں میں اصلاح کی بجائے بدی اور شرارت زیادہ ہوتی چلی جا رہی ہے اور یہ سمجھا جا رہا ہے کہ جماعت احمد یہ کو نقصان پہنچانے میں ہماری زندگی ہے اور اتنے خود غرض لوگ ہیں کہ اگر اپنی بد جان کی حفاظت کے لئے ہزار ہا معصوم جانیں ہلاک کرنی پڑیں تو ان کو قطعاً کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ایسی خود غرضی اور ایسا ظلم طبیعتوں میں داخل ہو چکا ہے۔ ایسے لوگوں سے آپ کا واسطہ ہے اس لئے بہت زیادہ آپ کو خدا کی حفاظت کی ضرورت ہے اور قرآن کریم نے آپ کو راز بتا دیا ہے خدا تعالیٰ کی حفاظت کا کہ تم دین اسلام کی حفاظت پر کمر بستہ ہو جاؤ اور اپنی حفاظت کا فکر خدا تعالیٰ کے فرشتوں کے اوپر رہنے دو۔ اس کے فرشتے تمہاری حفاظت فرمائیں گے آگے اور پیچھے اور اتنی دور تک ان کی حفاظت کے اثرات جائیں گے کہ تمہارے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتا ۔ لیکن ساتھ ہی معین طور پر دعا ئیں بھی کریں ۔ ہم یہاں آپ کے لئے دعا گو ہیں اور جس حد تک پیش جاتی ہے خدا کے حضور گریہ وزاری کرتے ہیں اللہ ہمارے سب بھائیوں اور بہنوں اور بڑوں اور چھوٹوں کو اپنے پیار اور حفاظت میں رکھے اور ان کی طرف سے خوشیوں کی خبریں پہنچائے اور غم کی خبریں نہ دکھائے۔ بہر حال اللہ کی رضا پر ہمیں راضی رہنا ہے۔ اس کا فضل ہو، اس کا ابتلاء ہو جو کچھ بھی ہو ہم اس پر راضی رہیں گے انشاء اللہ اور کبھی بھی ناشکری کے کلمات زبان پر نہیں جاری ہوں گے لیکن اپنے پیاروں کا دکھ بہر حال بعض دفعہ نا قابل برداشت ہو جاتا ہے۔ اس لئے ہم آپ کے لئے دعا گو ہیں، آپ ہمارے لئے دعا کرتے رہیں اور انگلستان کے جو احمدی جنہوں نے آپ کی خدمت کی ، آپ سے پیار اور محبت کا سلوک کیا ان کو بھی دعاؤں میں یاد رکھیں اور یہ عہد کر کے جائیں کہ کسی قیمت پر ایک انچ بھی خدا کے دین کی حفاظت سے پیچھے نہیں ہٹنا ، اسی میں آپ کی زندگی ہے۔ خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: جمعہ کے ساتھ نماز عصر بھی جمع کرائی جائے گی اور نماز عصر کے معاً بعد جو احباب مسجد میں ہیں وہ باہر جا کر صف بندی کر لیں جو باہر ہیں وہ وہیں سے صف بندی میں شامل ہو جائیں۔ پانچ نماز