خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 519 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 519

خطبات طاہر جلد ۵ 519 خطبہ جمعہ ۱۸ جولائی ۱۹۸۶ء الصلوۃ والسلام کا وہ کشف جو آپ کو ماموریت کی وجہ بتاتا ہے اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان فرشتوں کو دیکھتے ہیں جو فرشتے دنیا میں مامور کی تلاش کے لئے بھیجے گئے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھ کر وہ ٹھہر جاتے ہیں اور آپس میں باتیں کرتے ہیں اور کہتے ہیں یہ ہے وہ و شخص جواس ز جو اس زمانہ کا مامور بنائے جا۔ جانے کے لائق ہے اس لئے کہ یہ رسول کریم ما وو 66 صلى الله عروسہ سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے۔ ھذار جل يحب رسول الله ” سب سے زیادہ کا لفظ استعمال نہیں فرمایا لیکن اس میں بھی ایک عظیم خراج ہے گویا ایک ہی شخص ہے يــحــب رســول اللــه گویا ساری دنیا میں تلاش کیا مگر محبت کرنے والا صرف ایک ہی نکلا ۔ یہ تو مراد نہیں کہ اس وقت کسی اور کو رسول اکرم ﷺ سے محبت نہیں تھی مگر آپ کی محبت کو نمایاں کرنے کے لئے ایک نہایت ہی حسین ، فصیح و بلیغ طریق اختیار فرمایا گیا ہے کہ مسیح موعود کی محبت کو اگر باقی محبتوں کے مقابل پر رکھا جائے تو ایسے معلوم ہوتا ہے کہ جیسے وہ محبت ہی کوئی نہیں تھی۔ یہ ویسی ہی بات ہے جیسے وہ شعر اس مضمون کو بیان کرتا ہے۔ رات محفل میں تیرے حسن کے شعلہ کے حضور شمع کے منہ پہ جو دیکھا تو کہیں نور نہ تھا کہ تیرا حسن ایسا حسن ہے ایسا فراواں حسن ہے کہ وہ شمع جو تیرے حسن کو دیکھنے سے پہلے روشن نظر آیا کرتی تھی تیرے آنے کے بعد وہ شمع پھیکی پڑ گئی اور اس کے چہرے پر کوئی نور کا نشان باقی صلى الله علوس نہ رہا۔ اتنا بڑا اخراج تحسین ہے حضرت محمد مصطفی ﷺ کے اس عشق کو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے دل میں موجزن تھا کہ فرشتوں نے یہ نہیں کہا کہ یہ شخص سب سے زیادہ محبت کرتا ہے بلکہ فرمایا کہ اس کو دیکھا تو یوں لگا کہ ایک ہی ہے جو محبت کرتا ہے اور کوئی باقی نہیں رہا۔ صلى الله پس آپ کی ماموریت کی بناء ہی محبت رسول ا ہے اس کے سوا اور کچھ نہیں اور یہی ہماری گھٹی میں ہمیں پلائی گئی ہے، یہی ہماری سرشت ہے۔ کوئی دنیا کی طاقت ہمیں اس محبت سے باز نہیں رکھ سکتی ۔ اگر اس محبت کے جرم میں گستاخی رسول کی چھری سے ہی ہمیں ٹکڑے ٹکڑے کیا جائے۔ تو میں آج تمام جماعت کی طرف سے ببانگ دہل یہ اعلان کرتا ہوں کہ جو چاہو کرتے پھرو۔ محبت محمد مصطفی علی کو ہمارے دلوں سے نہیں نوچ سکتے اور نہیں نوچ سکتے اور نہیں نوچ سکتے اور میں یہ صلى