خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 495
خطبات طاہر جلد۵ 495 خطبہ جمعہ ا ار جولائی ۱۹۸۶ء آپ جا کے سفارش کریں۔اتنا ان کا خدا کے فضل سے اثر ورسوخ تھا کہ اس کے پاس گئے اور اس نے اسی وقت ان کو کہا کہ آپ یہ میرا آدمی لے جائیں ، یہ آپ کو وہاں پہنچائے گا جہاں وہ ڈاکو ہیں اور جہاں وہ آدمی قید ہے تو سوال ہی نہیں کہ وہ اس کو چھوڑیں نہ۔چنانچہ بابو صاحب نے مجھے پھر سارا واقعہ لکھا۔وہ کہتے ہیں کہ میں اس کو لے کر گیا۔تو ڈاکوؤں نے جب دیکھا کہ کس کا آدمی ساتھ آیا ہے تو انہوں نے کہا جی کیا ہم سے غلطی ہوئی ، فرمائیے کیا حکم ہے؟ جواباً انہوں نے بتایا کہ ان کا کوئی دوست ہے، کوئی عزیز ان کو آپ نے پکڑا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ابھی حاضر انکوابھی ہم نکالتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ ہم کھانے کے بغیر آپ کو نہیں جانے دیں گے اور جب تک ہم مہمان نوازی کا حق ادا نہ کر لیں اس وقت تک آپ واپس نہیں جاسکتے اس وقت تک چھوڑ نا بھی نہیں اس کو۔وہ اکیلا قید نہیں تھا ایک اور بھی تھا۔جب اس کے ساتھی کو پتہ چلا کہ اس کی قید کو چھوڑانے والے آئے ہیں اور اتنی عزت اور احترام سے ان کے ساتھ سلوک ہو رہا ہے تو اس نے سلاخوں میں سے آواز دی میں بھی ہوں یہاں، میری بھی سفارش کر دو۔تو انہوں نے کہا اچھا جی اس بیچارے کو بھی چھوڑ دو، تو انہوں نے کہا حاضر اس کو بھی چھوڑ دیتے ہیں۔بڑا احسان کرنے والے لوگوں پر اور لوگ بھی ان کے اعلیٰ خلق کی وجہ سے ان سے بڑے متاثر تھے۔اب ان کو ایسی حالت میں اتنی سال کی عمر ، بوڑھا آدمی دکان پر اکیلا بیٹھا ہوا۔جب ان کا دکان کا جو ملازم تھا کام کرتا تھا۔اس وقت تک وہ انتظار کرتے رہے ، جب وہ باہر گیا تو پھر ان کو آکرا کیلے چھریاں مار کر ہلاک کر دیا۔میان کا دین ہے، یہ ان کی بہادری ہے، یہ ان کا تقویٰ ہے اور شرم نہیں کرتے کہ اس دین کا نام اسلام رکھ رہے ہیں اس دین کو حضرت محمد مصطفی می ﷺ کی طرف منسوب کر رہے ہیں اور حیا نہیں کھاتے۔نقوش وہی ہیں جو ابھر رہے ہیں ہمارے دشمنوں کے بھی اور ہمارے بھی اور یہ تصویر میں صاف پہچانی جارہی ہیں۔اندھا بھی ہو تو ٹول کر دیکھ لے گا کہ یہ نقوش کس کے نقوش ہیں۔انبیاء کے مخالفین کے نقوش انبیاء کے نقوش سے مل ہی نہیں سکتے ، یہ ہو ہی نہیں سکتا۔دن اور رات جس طرح جدا جدا چیزیں ہیں اسی طرح انبیاء اور ان کے ماننے والوں کی سنتیں اور ان کی ادائیں ان کے مخالفین کی سنتوں اور اداؤں سے بالکل مختلف ہوتی ہیں۔ان کا جہاد کا یہ تصور تو ہے کہ جہاں غلبہ ہو جہاں طاقت ہو وہاں جھوٹے الزام لگا کر کمزوروں پر حملہ کرو اور اس کا نام اسلام ہے اور غیرت اور محبت رسول وہاں دکھاؤ