خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 494 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 494

خطبات طاہر جلد۵ 494 خطبہ جمعہ ا ار جولائی ۱۹۸۶ء ان کے معاہد سے تعلق رکھنے والوں کو قتل و غارت کرو اور ان کے معابد کو مسمار کردو۔آنحضرت ﷺ کے بعد آپ کے خلفاء کی بھی یہی سنت رہی کہ شدید مخالفت کے دوران جبکہ دشمن نے پہلے حملہ کیا اور جارحانہ کاوشوں کے بعد پھر بالآخر خلفاء نے دفاعی جنگیں لڑیں۔ایسی صورتوں میں جبکہ بظاہر اسلام کمزور تھا اس وقت بھی ان اعلیٰ اخلاقی قدروں میں سے کوئی ایک قدر بھی خلفائے راشدین نے نہیں چھوڑی اور آنحضرت عیﷺ کی سنت اور آپ کی نصائح پر بڑی سختی سے کار بندر ہے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق بھی یہی آتا ہے کہ جہاد پر روانہ ہونے سے پہلے آپ سرداران لشکر کو یہ نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ کسی بوڑھے پر ہاتھ نہیں ڈالنا، کسی عورت پر ہاتھ نہیں ڈالنا کسی بچے کو کچھ نہیں کہنا اور ان عمارتوں پر بھی ہاتھ نہیں ڈالنا جن کا تقدس کیا جاتا ہے یعنی جن عمارتوں کو تقدس کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ان عمارتوں کو بھی نہیں چھیڑنا۔(موطا امام مالک کتاب الجہاد حدیث نمبر : ۸۵۷) کہاں وہ اسلام اور کہاں یہ آج کا اسلام کہ نصیحتوں میں یہ بات داخل کر لی گئی کہ حملہ کرنا ہے تو عبادت گاہوں پر حملہ کرنا ہے، مارنا ہے تو ان کو مارنا ہے جو عبادت گاہوں سے متعلق ہو چکے ہیں، قتل کرنا تو بوڑھوں کو کرنا ہے یا عورتوں کو کرنا ہے ، چھپ کر وار کرنا ہے، بزدلی کے ساتھ حملہ کرنا ہے اور وہاں حملہ کرنا ہے جہاں تمہیں پوری طرح غلبہ نصیب ہو ، جہاں تم کمزور ہو یا مستضعفین کہلانے والوں میں شمار ہو سکتے ہو وہاں تم نے کوئی ہاتھ نہیں اٹھانا اور ان بدا داؤں کا نام اسلام رکھ لیا گیا ہے۔ابھی پرسوں ہی یہ خبر ملی کہ حیدر آباد کے ہمارے ایک پرانے معزز بزرگ جو ایک لمبا عرصہ حیدر آباد میں امیر بھی رہے یعنی با بوعبد الغفار خاں صاحب، ان کی اسی سال کی عمر تھی ان کو آنکھوں سے نظر بھی نہیں آتا تھا، ان کو ظالمانہ طور پر چھریاں مار مار کر شہید کر دیا گیا۔بڑے وہ با اخلاق انسان تھے، اس علاقہ میں بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔دور دور تک معززین ان کی بات کا احترام کرتے تھے اور چونکہ ہمیشہ سے انہوں نے خدمت کی علاقہ کی اور نہایت پیارے اخلاق رکھتے تھے اس لئے اپنوں غیروں میں سب میں بہت ہر دلعزیز تھے۔ایک دفعہ ایک شخص کو کسی ڈاکو نے اغوا کر لیا اور غریب آدمی تھا لیکن کئی لاکھ روپے کا اس سے مطالبہ شروع کیا۔بابوعبدالغفار صاحب کے پاس وہ آئے انہوں نے کہا کہ فلاں جو سندھ کا بڑا معزز آدمی ہے اس کہنے سے یہ ڈا کو باہر نہیں جا سکتے تو