خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 493 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 493

خطبات طاہر جلد۵ 493 خطبہ جمعہ امر جولائی ۱۹۸۶ء رہی تو تمہارا بھی کچھ باقی نہیں رہے گا اور پھر تمہارے یہ خواب کہ ہم احمدیوں کو مٹادیں ، احمدیوں کو نقصان پہنچا دیں یہ بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکیں گے۔تو آج اس وقت کے فرعون کی عزت کی قسم کھاؤ اور یہ اعلان کرو کہ ہم نے اس کی حمایت سے دستبردار نہیں ہونا اور لوگوں کو بھی جا کر یہی تلقین کرو۔ان میں بھی اعلان کرو کہ یہی ایک ہمارا سہارا ہے۔اگر یہ سہارا ٹوٹ گیا تو پھر ہماری ساری سکیمیں احمدیت کے خلاف نا کام اور نامراد جائیں گی۔ان کو بھی یہی آیت مخاطب ہو کر کہہ رہی ہے کہ جس طرح خدا کی تقدیر نے اس سے پہلے ایک فرعون کی عزت کی قسم کھانے والوں کو ناکام و نامراد کر دیا تھا آج بھی اسی خدا کی تقدیر جلوہ گر ہوگی۔آج بھی اسی خدا کی تقدیر غالب آئے گی اور اس زمانہ کے فرعون کی عزت کی قسم کھانے والے بھی یقینا نا مراد اور ناکام رہیں گے، ان کی ساری تدبیریں باطل جائیں گی۔ایک اور ان کی ادا یہ ہے کہ مظلوم ، نہتے ، کمزور اور بوڑھے احمدیوں پر چھپ کر قا تلانہ حملے کر رہے ہیں۔عورتوں پر حملہ سے بھی باز نہیں آتے اور کوئی حیا نہیں کرتے اور بوڑھوں پر ہاتھ اٹھانے سے بھی شرم نہیں کھاتے۔حالانکہ ویسے ہی مردانگی کے خلاف بات ہے مگر جہاں تک سنت انبیاء کا تعلق ہے، آپ کبھی بھی انبیاء اور ان سے تعلق رکھنے والے، ان کے غلاموں اور ان سے محبت کرنے والوں میں یہ بدا دا نہیں پائیں گے کہ مقابلے کے وقت بوڑھوں پر ہاتھ اٹھا ئیں یا عورتوں کو شہید کریں یا معابد کا رخ کریں اور ان کو مٹانے کی کوشش کریں۔اس کے بالکل برعکس آنحضرت ﷺ کی یہ ایک سنت مؤکدہ تھی اور بخاری اور موطا اور مسلم اور ابو داؤد کی مستند احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ ہر دفعہ جب حضور اکرم یہ کسی مہم کو سریہ پر بھجواتے تھے دشمن سے مقابلہ کے لئے تو جو نصیحتیں فرمایا کرتے تھے ان میں یہ صیحتیں شامل تھیں کہ دیکھو تم نے کسی بوڑھے پر ہاتھ نہیں اٹھانا کسی بچے کو سخت نظر سے نہیں دیکھنا کسی عورت کی جان نہیں لینی اور وہ لوگ جو معابد سے تعلق رکھتے ہیں خواہ وہ کسی دنیا کے مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ہوں، کسی خدا کی عبادت گاہ سے تعلق رکھنے والے لوگ ہوں، ان کو کچھ نہیں کہنا۔(ابوداؤ د کتاب الجہاد حدیث نمبر: ۲۲۴۶) آج یہ ساری چیزیں بالکل الٹادی گئیں ہیں اسلام کے نام پر۔آج نصیحت کرنے والے علماء پاکستان کے لوگوں کو یہ نصیحت کر رہے ہیں کہ ان کے بوڑھوں پر حملہ کرو اگر تمہیں جوانوں پر حملہ کرنے کی ہمت نہیں ہے، ان کی عورتوں پر ہاتھ اٹھاؤ،