خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 492
خطبات طاہر جلد۵ 492 خطبہ جمعہ ا ار جولائی ۱۹۸۶ء ہی کچھ نہیں تو جب سب کچھ تمہارے پلڑے میں پڑ گیا تو پھر لازمی نتیجہ یہ نکلنا چاہئے وَ أَنَّ الْكَفِرِينَ لَا مَوْلى لَهُمْ اور اللہ تم نے سنبھال لیا تو ان کے پاس کیا باقی رہا۔اس کے سوا تو کوئی معبود نہیں ہے اور کوئی مولیٰ ہے ہی نہیں ، وجود ہی کوئی نہیں۔اس لئے خواہ وہ کتنے ہی بڑے دعوے کریں ، کتنی بڑی قسمیں کھائیں اس حکومت کی طاقت کے بل بوتے پر ہم مٹا دیں گے اور یہ کر دیں گے اور وہ کر دیں گے۔یہ ساری فرضی کہانیاں ہیں، پہلے بھی ایسی باتیں کرنے والے لوگ موجود تھے اور ان سب کو خدا کی تقدیر نے فنا کر دیا۔اس سے پہلے ہمیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ فرعون کے مقابلہ کی جو داستان قرآن کریم میں ملتی ہے اس میں ہم یہ بھی پاتے ہیں۔فَالْقَوْا حِبَالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ وَقَالُوا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ إِنَّا لَنَحْنُ الْغَلِبُونَ ( الشعر ا: ۴۵) ان لوگوں کا بظاہر ایک مولیٰ تھا اور وہ فرعون تھا اور فرعون کے بل بوتے پر اس کی طاقت کے سہارے وہ بڑے بڑے دعوے کیا کرتے تھے اور یہ اعلان کر رہے تھے ، وہ جادو گر کہ ہم فرعون کی عزت کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہم ضرور غالب آئیں گے۔اب پاکستان میں بعینہ یہی ہورہا ہے۔آج کل علماء ایک دوسرے کو یہ خوشخبریاں دے رہے ہیں کہ وقت کا جابر ہمارے ساتھ ہے اور یہی وقت ہے احمدیت کو مٹانے کا اگر یہ جابر مٹ گیا تو پھر احمدیت بھی نہیں مٹ سکے گی اور تمہارا بھی کچھ باقی نہیں رہے گا اور یہ بات یاد دلانے کی خاطر مرکز میں اسلام آباد میں یعنی پاکستان میں جو اسلام آباد ہے اس میں با قاعدہ وزیر مذہبی امور نے علماء کی ایک میٹنگ بلائی اور جیسا کہ میں نے پہلے ہی بیان کیا تھا کہ علما خواہ وہ مخفی اجلاسوں میں شامل ہوں یا کھلے اجلاسوں میں شامل ہوں، وہ بات روک ہی نہیں سکتے۔یہ فخر کہ وزیر نے ہمیں بلایا اور مشورے میں ہمیں شامل کیا یہ اتنا ز بر دست فخر ہوتا ہے کہ وہ اس کا کھلے منہ سے اعلان شروع کر دیتے ہیں بتانے لگ جاتے ہیں کہ ہم نے کیا کیا ، کیا کیا حصہ لیا ، ہمارے فلاں رقیب نے کیا باتیں کہیں اور دیکھتے دیکھتے وہ ساری باتیں پھیل جاتی ہیں۔تو بظاہر یہ ایک بڑی مخفی اور بڑی اہم میٹنگ تھی جو بصیغہ راز منعقد کی گئی مگر چند گھنٹے کے اندراندر اس کے متعلق باتیں عام پھیلنی شروع ہوگئیں۔اس میٹنگ کی رپورٹ کا خلاصہ یہ ہے کہ وزیر مذہبی امور نے کہا کہ علماء تم کیوں ہوش نہیں کرتے، کیا تمہیں علم نہیں ہے کہ اس حکومت کے ہوتے ہوئے جو کچھ تم کر سکتے ہوکر لواگر یہ حکومت نہ