خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 490
خطبات طاہر جلد۵ 490 خطبہ جمعہ ا ار جولائی ۱۹۸۶ء یہ اعلان جس طرح اس وقت سچا تھا جب حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ پر یہ وحی نازل فرمائی جارہی تھی آج بھی اسی طرح سچا ہے اور گزرے ہوئے کل میں بھی ویسا ہی سچا تھا۔یہ ایک ایسا اعلان ہے جس کو وقت کے ہاتھ مٹانہیں سکتے ، گزرتا ہوا زمانہ جس کی شان کو مدھم نہیں کر سکتا۔جس کے اندر جو بنیادی حقیقت بیان ہوئی ہے وہ ایک لازوال حقیقت ہے۔آج جماعت احمدیہ پر جو دور گزر رہا ہے اس پر بھی یہ آیات اسی شان کے ساتھ چسپاں ہو رہی ہیں جس طرح اس سے پہلے ہر سچائی کے دور میں چسپاں ہوتی رہی ہیں اور جو تصویر میں بن رہی ہیں وہ ہو بہو نقش به نقش ، موبمو وہی بن رہی ہیں جو اس سے پہلے بنتی رہی ہیں۔ہماری مخالفت کے انداز وہی ہیں جو سچائی کی مخالفت کے ہمیشہ سے انداز رہے ہیں۔وہی ادا ئیں ہیں، وہی طریق ہیں، وہی بعض کھونٹوں کے زور پر ناچنا ہے، وہی دنیاوی سہاروں کے تکبر ہیں اور لفظ بلفظاً تاریخ اسی طرح دہرائی جارہی ہے جیسے پہلے ہر دفعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغمبروں کے آنے کے وقت دہرائی جاتی رہی ہے اور جماعت احمدیہ کی طرف سے بھی اسی شان کے ساتھ یہ تاریخ دہرائی جارہی ہے جس شان کے ساتھ صداقت کو ماننے والوں نے ہمیشہ اس تاریخ کو دہرایا ہے۔مخالفت کے جو انداز ہیں ان میں ایک نمایاں چیز جو پاکستان میں ظاہر ہو رہی ہے وہ ہے کلمہ طیبہ جس کا اصل نام کلمہ شہادۃ ہے اور پاکستان اور ہندوستان میں کلمہ طیبہ کے نام سے معروف ہے یعنی یہ گواہی دینا ہے کہ اللہ ایک ہے اور محد مصطفی ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔کلمہ طیبہ کو جرم سمجھ کر کلمہ طیبہ سے محبت کا اظہار کرنے والوں اور اس کو اپنی چھاتی سے لگانے والوں کو طرح طرح کی اذیتیں دینا اور ہر قسم کے جبر اور تشدد کے ساتھ ان کو کلمہ طیبہ سے پیار کے اظہار سے روک دینا۔یہ ایک نمایاں انداز ہے ہماری مخالفت کا جو پاکستان میں ابھرا ہے اور گزشتہ چودہ سو سال میں سوائے آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں آغاز اسلام کے سوا آپ کو یہ طرز مخالفت اور کہیں دکھائی نہیں دے گی۔یا اس دور اول میں تھی یا اس دور آخر میں ہے یا اولین کے ساتھ یہ معاملہ گزرا تھا یا اب آخرین کے ساتھ یہ معاملہ گزر رہا ہے۔بزور ، بشدت، با جبر کلمہ طیبہ سے روکنا اور پھر کلمہ طیبہ سے تعلق رکھنے کے نتیجہ میں شدید سزائیں دینا ، یہ ہے وہ مخالف کی ادا اور مومنوں کی ادا یہ ہے کہ بڑی خوشی کے ساتھ ، بڑے صبر کے ساتھ ، بڑی ہمت کے ساتھ ہر قسم کی تکلیفوں کو برداشت کرتے چلے جارہے ہیں لیکن