خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 488 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 488

خطبات طاہر جلد۵ 488 خطبہ جمعہ ا ار جولائی ۱۹۸۶ء اور کس طرح ان کی فتح کے سامان فرمائے خلاصہ یہ مضمون ان دو آیات میں بیان ہو گیا ہے۔چنانچہ فرمایا اَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرُوا یعنی صرف مکہ سے تعلق رکھنے والے یا مدینہ سے تعلق رکھنے والے واقعات کا ذکر نہیں تم روئے ارض پر جہاں کہیں بھی پھر و گے، جہاں کہیں بھی جستجو کرو گے تمہیں یہ واقعات تاریخ عالم پر ہر جگہ بکھرے پڑے نظر آئیں گے۔كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ کہ وہ لوگ جو حضرت اقدس محمد مصطفی عے سے پہلے گزر گئے اور جنہوں نے حق کی مخالفت کی تھی ان کا انجام کیا ہوا ، اس پر نظر دوڑاؤ۔دَمَّرَ اللهُ عَلَيْهِمُ اللہ نے ان کو ہلاک اور برباد کر دیا۔وَلِلْكُفِرِيْنَ أَمْثَالُهَا اور کا فرجب بھی جس زمانے کے بھی ہوں گے ان پر ویسے ہی واقعات گزریں گے جس طرح پہلے زمانہ کے کافروں پر گزرتے رہے اور خدا تعالیٰ کے سلوک میں تم کوئی بھی فرق نہیں پاؤ گے۔یہ بیان فرما کر فرمایا ذلِكَ بِأَنَّ اللهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَانَّ الْكَفِرِينَ لَا مَوْلَى لَهُمُ ایسا اس لئے ہوگا یا ہوتا رہا ہے کہ مومنوں کا تو ایک مولیٰ ہے یعنی اللہ اور کافروں کا کوئی مولی نہیں۔جہاں تک اس آیت کے پہلے حصے کا تعلق ہے کہ مومنوں کا ایک مولیٰ ہے یہ تو سمجھ میں آنے والی بات ہے اور ویسے بھی جس کا دنیا میں کوئی نہ ہو وہ یہی دعویٰ کیا کرتا ہے کہ میرا خدا ہے۔جب سارے دنیا کے سہارے ٹوٹ جاتے ہیں تو ایسے لوگ جو اپنے آپ کو بے دست و پا پاتے ہیں وہ ہمیشہ یہ دعوی کر دیا کرتے ہیں کہ ہمارا خدا ہے لیکن اس سے تصویر مکمل نہیں ہوتی اور ہر دعویدار کے دعویٰ پر یقین کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔اس آیت نے ایک اور بھی دعوئی ساتھ کر دیا۔وَاَنَّ الْكَفِرِينَ لَا مَولى لَهُمْ کہ جو انکار کرنے والے ہیں ان کا کوئی مولیٰ نہیں ہے۔یہ دعویٰ بہت ہی گہرائی سے مطالعہ کے لائق ہے اور بظاہر ایک ایسی بات پیش کر رہا ہے جو تاریخ عالم سے درست ثابت نہیں ہوتی بظاہر یعنی کیونکہ جن قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے، جن میں انبیاء کو سب دنیا نے چھوڑ دیا ، جن کا صرف خدا رہ گیا۔ان قوموں کے مولیٰ تو ضرورت تھے اور بڑے بڑے طاقتور مولی ان کو نصیب تھے۔آنحضرت علی کو جب اہل مکہ نے چھوڑا تو ان کے بھی مولیٰ تھے وہ ایک دوسرے کے مددگار تھے، ایک دوسرے کے نصیر تھے، تمام عرب قبائل ان کی مدد کے لئے ان کی پشت پناہی پر تیار بیٹھے تھے اور ہر قسم کے جتنے بھی مددگار انسانی لحاظ سے مہیا ہو سکتے ہیں وہ سارے حضرت