خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 472 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 472

خطبات طاہر جلد۵ ان کا بھی ذکر فرمایا گیا ہے۔472 خطبہ جمعہ ۴ جولائی ۱۹۸۶ء پہلی آیت جو آج میں نے تلاوت کی ہے اس کا ترجمہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں اپنے اموال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایک دانے کی سی ہے جس میں سے سات بالیاں لگیں سَبْعَ سَنَابِلَ جن میں سات بالیاں لگیں اور ان سات بالیوں میں سے ہر بالی کے اندر ایک سو دانے ہوں وَاللهُ يُضْعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِیم اور اللہ تعالیٰ جس کے لئے چاہتا ہے اس سے بھی زیادہ اور بڑھا دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بہت ہی وسعتوں والا اور وسعتیں عطا کرنے والا اور بہت زیادہ جاننے والا ہے۔اس آیت میں جو تصویر کھینچی گئی ہے مومن کے انفاق فی سبیل اللہ کی عموماً اس کا ترجمہ پڑھتے وقت اور اس کے مضمون پر غور کرتے وقت ذہن اسی طرف جاتا ہے کہ یہاں مومن کے اموال کی مثال دی گئی ہے ، مومن کی مثال نہیں دی گئی اور مومن کے اموال خدا کی راہ میں قربانی کے نتیجہ میں بڑھتے ہیں ، صرف اسی قدر ذکر ہے حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے ، مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أمْوَالَهُمْ فی سبیل اللہ فرمایا گیا ہے مَثَلُ نَفَقَاتِ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ نہیں فرمايا مثل ما ينفقون نہیں فرمایا بلکہ یہ فرمایا ہے مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ وہ لوگ جواللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال یہ ہے اور اس طرح مضمون میں وسعت پیدا ہو جاتی ہے یعنی یہ مثال ان لوگوں پر بھی صادق آتی ہے جو خرچ کرتے ہیں اور ان چیزوں پر بھی صادق آتی ہے جو وہ خرچ کرتے ہیں یعنی وہ سارا منظر ان کے خرچ کرنے کا اس طرح پیش فرما دیا گیا کہ خرچ کرنے والے بھی اور ان کی تصویر بھی آنکھوں کے سامنے ابھر آتی ہے اور جو وہ خرچ کرتے ہیں اور جس طرح خرچ کرتے ہیں وہ نقشہ بھی انسان کی آنکھوں کے سامنے ابھر آتا ہے۔اور اس کے بعد کی آیات میں ی فرمایا گیا کہ وہ کس طرح خرچ نہیں کرتے کیا ادا ئیں ان کی ہیں وہ بھی بیان فرما دی گئیں اور اس کے نتیجے میں اللہ کے فضل ان پر کس طرح نازل ہوتے ہیں یہ بھی بیان کر دیا گیا اور بعد میں آنے والی آیات میں یہ بتایا کہ یہ یہ باتیں وہ نہیں کیا کرتے۔تو خرچ کے مثبت پہلو بھی بیان فرما دیئے گئے اور منفی پہلو بھی بیان فرما دیئے گئے۔اس مثال پر جب اس طرح غور کرتے ہیں تو لفظ حبة کی پہلے کی نسبت زیادہ بہتر طور پر سمجھ آنے لگتی ہے۔