خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 466
خطبات طاہر جلد ۵ 466 خطبہ جمعہ ۲۷ / جون ۱۹۸۶ء انگریزی زبان میں ، دوسری زبانوں میں تو ساتھ لے کر آئیں۔اپنے حسن خلق سے اپنے آپ کو لوگوں کی نگاہوں کی دلچسپی کا مرکز بنا دیں۔نگاہیں پڑیں اور استفہام کے ساتھ پڑیں، کون ہیں یہ؟ مختلف ہے عام لوگوں سے، ان کی طرز ، انکی ادا الگ ہے۔لوگ خود آگے بڑھ کر آپ سے پوچھیں کہ تم کون ہو۔تو پھر آپ کو توفیق ملے ، موقع ملے کہ آپ نہایت حسین انداز میں اسلام اور احمدیت کا تعارف کرائیں۔ایک اور بات یاد رکھیں قرآن فرماتا ہے هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ (الرحمن :۶۱) کہ احسان کا بدلہ احسان سے دینا چاہئے۔جب آپ یہاں تشریف لائیں گے تو مقامی جماعت للہی جو آپ کی خدمت کرے گی اللہ کی خاطر اور شوق اور محبت سے اپنی سعادت جانتے ہوئے آپ کی میزبانی کرے گی اس کے ساتھ اگر آپ احسان کا معاملہ ویسے نہیں کر سکتے تو دعا تو کر سکتے ہیں۔لیکن یہ نہ کریں کہ آکر ان پر بوجھ بن کر بیٹھے ہی رہیں، ان کی حیا کی آزمائش کرنے لگ جائیں۔تنگی میں رہنے والے لوگ ہیں، عورتوں کو خود محنت کرنی پڑتی ہے ، بعضوں کو کمانا بھی پڑتا ہے پھر گھر کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے۔بچوں کو سنبھالنا محنت طلب ہے اور اوپر سے پھر مہمان نوازیاں اور پھر مہمان ایسا کہ جو آ کر پھر جانے کا نام ہی نہ لے، بیٹھ ہی رہے اور شکریہ ادا کرتار ہے اور اس کے بعد جانے کی بات ہی نہ کرے کبھی۔جلسے کی مہمانی زیادہ سے زیادہ دس دن کی ہے۔عام مہمانی تو تین دن کی ہوتی ہے، ہم نے دس دن کی مقرر کر دی ہے۔دس دن کے بعد سوائے اس کے کہ آپ کے رشتہ دار ایسے عزیز اور قریبی ہوں جو آپ کو روک رہے ہوں زبر دستی آپ کا کوئی حق نہیں ہے وہاں رہنے کا۔اس لئے یا واپس جائیں یا اپنا انتظام خود کریں۔اگر آپ اس کے بغیر رہیں گے تو آپ زیادتی کرنے والے ظلم کرنے والے ہونگے هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ پر عمل کرنے والے نہیں ہوں گے۔ایک اور بات کا خیال رکھیں کہ یہ بیماری بعض لوگوں میں پائی جاتی ہے کہ یہاں آتے ہیں مہمان بھی بنتے ہیں اور اس کے بعد کہتے ہیں کہ جی اگر آپ ہمیں ہزار پاؤنڈ دے دیں تو ہم آپ کو واپس جا کر بھجوا دیں گے آپ فکر نہ کریں۔یہ ضرورت پیش آگئی ہے، وہ ضرورت پیش آگئی ہے۔اس کے بعد پھر نہ وہ چٹھیوں کا جواب دیتے ہیں نہ ان کا پتہ لگتا ہے کہ کہاں غائب ہو گئے اور پھر مجھے