خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 465 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 465

خطبات طاہر جلد۵ 465 خطبہ جمعہ ۲۷ / جون ۱۹۸۶ء آپ کی مسجد کو اس کا پتہ ہوگا وہ بتائیں ، وہ ان کا نکلا۔جب وہ لینے گئے تو اصل جو لطف کی بات ہے وہ یہ ہے ایک آنہ بھی اس میں سے نہیں نکالا گیا تھا۔تمام کاغذات اسی طرح ، ایک ایک پیسہ، ہر چیز اسی طرح تھی اور وہ لے جانے والے نے ایک ایشین کی دکان کے سامنے رکھ دیا اور آپ وہاں سے غائب ہو گیا۔اس کے دل میں پتہ نہیں خدا نے کیا بات ڈالی ہے حالانکہ وہ بھاگ چکا تھا کوئی اس کے پکڑے جانے کی کوئی صورت نہیں تھی لیکن خدا کے فرشتوں نے اس کے دل کو کچھ ایسا قائل کر لیا کہ دوسرے دن مجھے ان کی طرف سے اطلاع ملی کہ ہر چیز اس طرح مجھے خدا کے فضل سے مل گئی ہے۔تو یہ واقعات بھی ہوتے ہیں لیکن چونکہ یہ ہوتے ہیں اس لئے آپ اپنی چیز میں گانا شروع کر دیں۔یہ تعلیم میں نہیں دے رہا چیزوں کی حفاظت آپ کا ذمہ ہے۔آنحضرت ﷺ نے تو کل کی ایک تعریف فرمائی ہے اس کو پیش نظر رکھیں اور کبھی کسی نے تو کل کی ایسی تعریف نہیں فرمائی۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں تو کل یہ نہیں ہے کہ اونٹ کو صحرا میں کھلا چھوڑ دو اور پھر تو کل کرو کہ وہ نہیں گے گا۔تو کل یہ ہے کہ اونٹ کا گھٹنا باندھ دو پھر بے شک چلے جاؤ اور پھر ہر وقت وہموں میں مبتلا نہ رہنا۔پھر تو کل کرو جو تم نے کرنا تھا کر لیا۔(ترمذی کتاب صفۃ القیامہ حدیث نمبر: ۲۴۴۱) پھر خدا کی تقدیر نے جو کرنا ہے وہ تمہارے لئے کرے۔اس کا نام تو کل ہے۔آپ اگر یہ تو کل کریں گے جو اسلامی تو کل ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعجازی نشان بھی دیکھیں گے۔مگر جاہلانہ تو کل اگر کریں گے جس کا اسلام سے تعلق نہیں ہے تو کوئی نشان آپ کو نہیں دکھایا جائے گا۔بچوں کی حفاظت کا خیال رکھیں۔ان کے گلوں میں تختیاں لٹکا دیں پتوں کی لکھ کر، انگریزی زبان میں اور یہ بھی خیال رکھیں کہ یہاں بچوں کا گم ہونا بہت ہی خطرناک ہے۔پاکستان میں یا ہندوستان میں بھی بعض جرائم بچوں کے معاملے میں نظر آتے ہیں لیکن یہاں کوئی اخلاقی حد نہیں ہے اس معاملے میں۔چھوٹے چھوٹے بچوں کو بعض دفعہ انتہائی بہیمانہ ظلموں کا نشانہ بنا کر، ہوس پرستیوں کا نشانہ بنا کر قتل کر کے پھینک دیا جاتا ہے اور یہ واقعات اتفاقی کبھی کبھی ہونے والے نہیں۔آئے دن یہاں یہ واقعات ہورہے ہیں۔شاذ ہی کوئی ہفتہ کوئی مہینہ ایسا گزرتا ہو کہ جبکہ اس قسم کے بھیانک واقعات سامنے نہ آتے ہوں۔تو اپنے بچوں کی خاص طور پر حفاظت کا خیال کریں۔تبلیغ کے جتنے مواقع میسر آئیں اس سے فائدہ اٹھائیں۔لٹریچر اگر وہاں سے مل سکتا ہے