خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 463
خطبات طاہر جلد۵ 463 خطبہ جمعہ ۲۷ / جون ۱۹۸۶ء چیز کا دور کرنا حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے ایمان میں داخل فرما دیا۔اس سے زیادہ صفائی کی اور تعلیم کیا دی جا سکتی تھی یعنی زور کیسے دیا جا سکتا تھا، یہ میرا مطلب ہے تعلیم تو بڑی وسیع ہے، بڑی کثرت سے باریک حصوں تک اترتی ہے۔اس لئے اب منہ کی بات ہے۔جہاں منہ سے بد بوچھٹ رہی ہو ،کھایا ہے جو کچھ اس پر کلی کسی نے کی ہے یا نہیں کی ، منہ کے اندر ٹکڑے خوراک کے گل سڑ رہے ہیں اور بو کے بھبا کے چھٹتے ہیں۔شراب پی کر تمباکو نوشی کے ذریعے اور ذرائع سے اور چیزوں کے استعمال سے، کوئی پرواہ نہیں۔آنحضرت ﷺ نے اتنی تعلیم دی کہ دن میں پانچ مرتبہ وضو کے ذریعے منہ کی صفائی ضروری قرار دینا تو الگ رہا یہ بھی فرمایا کہ میں تو یہ توقع رکھتا ہوں کہ جس سے ممکن ہو پانچ دفعہ مسواک بھی کیا کرے۔( بخاری کتاب الجمعہ حدیث نمبر : ۸۳۸) یعنی صرف کلی نہ کیا کرے۔بلکہ مسواک کیا کرے اور پھر فرمایا کہ کوئی ایسی چیز کھا کر نہ آؤ مسجد میں یا پبلک جگہوں پر جس سے تمہارے منہ سے بد بو آتی ہو اور بدن پر بھی خوشبو لگا کر رکھو۔(مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلوۃ حدیث نمبر : ۸۷۰) اب اندازہ کریں یہ چودہ سو سال پہلے کی تعلیم معلوم ہوتی ہے یا دوسوسال بعد آنے والے کی تعلیم معلوم ہوتی ہے۔اس لئے اس تعلیم کے معیار کو سامنے رکھ کر آنے والے بھی اور مقامی دوست بھی صفائی کے تقاضوں کو اس رنگ میں پورا کریں کہ یہاں کے رہنے والے دیکھیں یقین جانیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے احسان سے بہتر قوم ہیں، ایک بہتر رہنما کے غلام ہیں اور ہر لحاظ سے خدا کے فضل آپ کو نمونہ بننا چاہئے نہ کہ گرا ہوا معیار پیش کرنا ہو۔باہر سے آنے والوں کے لئے بھی حفاظت کے معاملے میں وہی تعلیم ہے جو میں پہلے مقامی دوستوں کو دے چکا ہوں اور رضا کارانہ خدمت کے لحاظ سے بھی باہر والوں کو بھی اپنے نام دینے چاہئیں۔عموماً قادیان اور ربوہ کے جلسوں میں باہر سے آنے والی جماعتوں کے دوست بھی شوق سے اپنے نام پیش کیا کرتے ہیں اور ان کو قبول بھی کر لیا جاتا ہے۔یہاں کے رضا کاروں کی کمی بہت حد تک اس طرح پوری ہو جائے گا کہ دنیا کی باہر کی جماعتوں کے لوگ جو شوق اور جذبہ رکھتے ہیں وہ پہلے نام بجھوا دیں۔وقت پر آکر اگر وہ نام دیں گے تو ضروری نہیں کہ پھر ان کی خواہش کو پورا کیا جاسکے