خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 39 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 39

خطبات طاہر جلد۵ 39 خطبہ جمعہ ۱۰ جنوری ۱۹۸۶ء کہ ہم اُن سے بہتر لوگ لے آئیں ہمیں کوئی عاجز نہیں کر سکتا ہے۔فَلْيَنْظُرِ الْإِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ خُلِقَ مِنْ مَّاءٍ دَافِقٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَابِبِ هُ إِنَّهُ عَلَى رَجْعِهِ لَقَادِرُة ( الطارق: ۶-۹) یہ بھی وہ مضمون ہے دوسرے رنگ میں بیان فرمایا گیا ہے۔ان باتوں پر غور کرو کہ جہاں جہاں بھی لفظ قادر کا استعمال ہوا ہے وہاں غور کرنے سے ایک اور بات بھی سامنے آتی ہے کہ یہ خدا کی ایک اور تقدیر کا ذکر چل پڑا ہے جس کا تعلق دین اور مذہب سے ہے۔یعنی پہلے جو قدیر کے اندر جس قدرت کا ذکر تھا جو تقدیر عام تھی ، اُس کا خدا تعالیٰ کی ہر تخلیق سے تعلق ہے وہ عام ہے۔جاندار سے بھی ہے بے جان سے بھی ہے، ہر جگہ خدا نے ایک تعلیم دے رکھی ہے جس سے کوئی ہٹ نہیں سکتا۔پھر خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کو ظاہر فرمایا یا اس سے پہلے دوسری کتب نازل فرمائیں اور ایک نئی تخلیق بنائی جو مذہبی دنیا کی تخلیق ہے۔اس تخلیق میں عام قانون سے ہٹ کر کچھ قوانین ہیں جن کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے۔سب سے اہم قانون یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک مقصد کی خاطر پیدا کیا ہے جس کے لئے تم جوابدہ ہو گے اور تمہیں دوبارہ اس لئے زندہ کیا جائے گا کہ تمہاری جواب طلبی کی جائے کہ تم نے اس مقصد کو پورا کیا تھا کہ نہیں کیا تھا اور جزاء اور سزا کے لئے تمہیں ایک جگہ اکٹھا کیا جائے اور جو حق دار ہے سزا کا اُسے سزادی جائے جو جزاء کا حق دار ہے اُسے جزاء دی جائے۔یہ جو قدرت ثانیہ ہے خدا تعالیٰ کی تقدیر کا نیا اظہار ہے جہاں جہاں یہ اظہار کیا جاتا ہے وہاں قادر کا لفظ تقدیر کے نسبت زیادہ استعمال ہوا ہے بلکہ بہت زیادہ کثرت کے ساتھ لفظ قادر کا استعمال یہاں ہوا ہے۔تو قرآن کریم کی جو تقدیر جاری ہوئی ہے انسانوں کے اوپر اور نبوت کی جو تقدیر اس سے پہلے جاری تھی اور ایک نیا قانون جاری ہوا جس میں کچھ اختیار بھی ہے بندے کو۔وہ تقدیر ہے جس کا ذکر خدا کی صفت قادر کی تحت کیا جا رہا ہے۔قدیر سے بچنے کا کوئی اختیار نہیں تھا بظاہر۔کسی بھی معنی میں بھی انسان بچ نہیں سکتا لیکن قادر کی تقدیر سے ان معنوں میں انسان کچھ بھاگتا