خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 441 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 441

خطبات طاہر جلد ۵ 441 خطبہ جمعہ ۲۰ /جون ۱۹۸۶ء پوری طرح وہ قربانیاں دے دی ہوں۔تھوڑے وقت کی قربانیوں کو از لی قربانیوں کے طور پر شمار فرماتا ہے۔اس لئے وہ یہی دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ اس دور ابتلا کو اب ایسے دور انعام میں بدل دے کہ ابتلا خوابوں کی دنیا کے واقعات نظر آنے لگیں اور وہ رحمتیں جواب بھی نازل ہو رہی ہیں پہلے سے بہت بڑھ کر مزید ہم پر نازل ہوں اور نازل ہوتی رہیں۔اس ضمن میں ایک غلط فہمی کا ازالہ بھی کرنا چاہتا ہوں۔عید کے خطبہ میں میں نے سیدنا بلال فنڈ کا ذکر کرتے ہوئے جماعت کو یہ خوش خبری دی تھی کہ میرا ارادہ ہے کہ اس فنڈ سے کم از کم سوز بانوں میں قرآن کریم کے نمونے کے ترجمے شائع کر کے ان سب قربانی کرنے والوں کی طرف سے دنیا کے لئے یہ تحفہ پیش کیا جائے جن قربانی کرنے والوں نے خصوصاً اس دور میں پاکستان میں قربانی کی سعادت حاصل کی ہے۔اس کے نتیجہ میں بعض دوستوں کو غلط نہی ہوئی کہ وہ لوگ جو ضرورت مند ہیں جن کے گھر جلائے گئے یا جن کے ذرائع معاش ختم کر دیئے گئے ، طرح طرح کی ان کو تکلیفیں پہنچائی گئیں ان کے نام پر ان کی خاطر ایک چندہ لیا گیا لیکن اس مقصد پر اس کو اب خرچ نہیں کیا جائے گا بلکہ بالکل دوسرے مقصد پر خرچ کیا جائے گا۔یہ بات درست نہیں ہے۔ہو سکتا ہے میں نے بیان کرنے میں غلطی کی ہو یا میری طرز بیان میں کوئی خامی رہ گئی ہو۔یہ مقصد ہرگز نہیں تھا۔میں نے یہ وضاحت کرنے کی کوشش کی تھی کہ قربانی کرنے والوں کی بہت سی قسمیں ہیں اور بلالی قربانیاں کرنے والے پاکستان میں ہزار ہا کی تعداد میں ہیں۔کوئی علاقہ خالی نہیں ہے ان سے۔ہر عمر کے لوگ ان میں شامل ہیں اور بہت بھاری اکثریت ان میں ایسی ہے جو یا تو اپنے آپ کو ضرورت مند سمجھتے ہی نہیں یا ضرورت مند ہیں بھی تو اپنی طبیعت کی مجبوری کی وجہ سے وہ جماعت سے کوئی امداد لینا نہیں چاہتے۔آپ لاکھ تحفہ کہہ کر پیش کریں، لاکھ یہ کہیں کہ یہ ہماری سعادت ہوگی آپ قبول کر لیں لیکن بعض انسانوں کی طبیعتیں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ نہیں قبول کر سکتیں۔اس لئے اول تو وہ بہت سے ایسے ہیں جو اپنے آپ کو ضرورت مند سمجھتے بھی نہیں اور واقعہ بھی اللہ تعالیٰ نے اتنی توفیق عطا فرمائی ہے ان کو کہ ضرورت مندوں کے زمرہ میں شمار نہیں ہو سکتے اور جو ہیں ان میں سے ایک بڑی تعداد ہے جو بالکل پسند نہیں کرے گی کہ ہمیں کسی قسم کی کوئی امداد خواہ تحفہ کے طور پر ہی ہو پیش کی جائے۔کچھ بیچ میں سے مجبور بھی ہیں۔یہ تحفہ جو تھا یہ تو سب کے لئے تھا۔