خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 440 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 440

خطبات طاہر جلد۵ 440 خطبہ جمعہ ۲۰ /جون ۱۹۸۶ء بیواؤں کی قربانیوں کی عظمت داخل ہوتی ہے۔ان ماؤں کو آپ کیسے بھلا سکتے ہیں جن کے بچے شہید ہوئے اور اللہ کی رضا کی خاطر وہ راضی رہیں اور بڑے حوصلے اور صبر کے نمونے دکھائے۔ان بہنوں کو آپ کیسے فراموش کر سکتے ہیں جن کے ویر ہاتھ سے جاتے رہے۔بہت ہی پیار سے ان کو دیکھا کرتی تھیں، بڑی محبت سے ان کا استقبال کیا کرتی تھیں اور جانتی ہیں کہ اب کوئی گھر میں واپس نہیں آئے گا۔کون کہ سکتا ہے کہ یہ خواتین ، یہ بوڑھیاں ، یہ بچیاں، یہ جوان عورتیں یہ ساری قربانیوں سے محروم ہیں اور صرف شہید ہونے والے قربانیوں میں آگے نکل گئے۔امر واقعہ یہ ہے کہ شہید ہونے والے تو قرآن کی گواہی کے مطابق اپنے رب کے حضور بہت ہی شاداں ہیں، وہ تو جنتوں میں داخل ہو چکے ہیں، وہ تو ہمیشہ کی زندگی پاچکے ہیں قربانیاں کرنے والے تو پیچھے رہ جایا کرتے ہیں۔اس لئے احمدی خواتین سے میں کہتا ہوں کہ یہ ٹھیک ہے کہ آپ کو تمنا تھی اور اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کی تمنا پوری بھی کردی کہ ایک احمدی خاتون کو واقعہ خدا کی راہ میں جان دینے کی سعادت نصیب ہوئی لیکن یہ ہرگز خیال نہ کریں کہ آپ مردوں سے پیچھے ہیں۔پیچھے رہنے والوں میں مرد بھی ہوتے ہیں رشتہ دار اور عورتیں بھی ہوتی ہیں اور میرا مشاہدہ یہ ہے کہ مردوں کی یادوں سے جدا ہونے والوں کے دکھ جلدی مٹتے ہیں بنسبت عورتوں کی یادوں کے۔عورتیں خواہ وہ بوڑھی ہوں یا جوان ہوں ان میں وفا کا مادہ اس لحاظ سے بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔وہ جدا ہونے والوں کے غموں کو بہت زیادہ دیر تک پیار اور محبت سے سینوں سے لگائے پھرتی ہیں اور مردوں میں یہ غیر معمولی خلق نسبتا کم پایا جاتا ہے۔اس لئے بچے بھی ہوں تو میں نے دیکھا ہے بیٹیاں زیادہ دیر تک یا درکھتی ہیں اور بیٹے جلدی بھول جاتے ہیں۔تو احمدی خواتین ہرگز قربانیوں میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں اور دعا کے لئے جو خط لکھنے والیاں ہیں ان کو میں خاص طور پر تاکید کرتا ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگیں کہ اللہ تعالی اس ابتلا کے دور کو اب قبول فرمالے اور ختم فرمادے۔وہ قربانیاں جو ہم نے نہیں بھی دیں اور وہ جو دینے کے لئے تیار بیٹھے ہیں لیکن ان کو موقع نہیں مل رہا خدا چاہے تو واقعات گزرنے سے پہلے ہی ان کو اس طرح شمار فرمالے جیسے وہ واقعات گزر چکے ہیں۔اور امر واقعہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ مومنوں سے اکثر ایسا ہی سلوک فرماتا ہے۔بہت تھوڑی قربانیاں لے کر اس طرح رحمتیں نازل فرماتا ہے جیسے ساری قوم نے