خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 439 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 439

خطبات طاہر جلد۵ 439 خطبہ جمعہ ۲۰ /جون ۱۹۸۶ء پیش پیش تھا، مسجد میں جلانے میں، احمدیوں کو زدوکوب کرنے اور مارنے پیٹنے میں اور ان کے گھر جلانے میں اور ان کو شہید کرنے میں جو لوگ بھی شامل تھے میں ان میں پیش پیش تھا۔جب میں یہاں حاضر ہوا تو جرائم فلم کی طرح میری آنکھوں کے سامنے گھومنے لگے اور اس قدر میں مغلوب ہو گیا احساس ندامت سے کہ سوائے آنسو بہانے کے میرے پاس کچھ بھی باقی نہیں تھا۔میں اس لائق نہیں سمجھتا تھا کہ ان آنکھوں سے جو کبھی نفرت اور غصے سے دیکھا کرتی تھیں احمدیوں کو ، احمدیوں کے امام کو انہی آنکھوں سے دیکھوں۔یہ کیفیت تھی اس کی اور یہ وہی کیفیت ہے جس کا قرآن کریم ذکر فرماتا ہے فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيُّ حَمِيدٌ ( حم السجدة :۳۵) تم ہر بدی کو حسن سے تبدیل کرتے رہو، ہر ظلم کی جزاء نیکی سے دو۔تم کیا دیکھو گے تم یہ دیکھو گے کہ جولوگ تمہارے خون کے پیاسے ہیں ایسے تمہارے دوست بن جائیں گے کہ تم پر جان چھڑ کنے لگیں گے ، فدا ہونے لگیں گے۔پس کہاں یہ انتقام اور کہاں وہ انتقام کہ کسی ظالم کو دنیا کی سزا مل جائے اور قصہ ختم ہو۔اس لئے یہ جو عظیم ترین اور حسین ترین انتقام قرآن اور حضرت اقدس محمد مصطفی علی نے سکھایا ہے اس سیکھے ہوئے سبق کو بھلائیں نہیں اور اسی پر قائم رہیں۔اس سے بہتر سبق آپ کو اور دنیا میں کہیں میسر نہیں آسکتا۔آنحضرت مکہ کے مکتب میں پڑھنے والے غیروں سے سبق سیکھیں یہ ان کو زیب نہیں دیتا۔جہاں تک اس سعادت کا تعلق ہے یہ خاتون تو عظیم سعادت پا گئیں۔دوسری احمدی خواتین کے متعلق میں ایک بات کی وضاحت کرنی چاہتا ہوں۔بڑی کثرت سے مجھے ہر شہادت کے بعد ایسے خطوط ملتے ہیں جس میں احمدی خواتین اس خواہش کا اظہار کرتی ہیں اور مجھے دعا کے لئے لکھتی ہیں کہ دعا کریں اللہ تعالیٰ ہمیں بھی شہادت نصیب کرے اور بعض بچیوں کے اتنے تڑپ کے خط ہوتے ہیں، اس قدر بے قرار کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان کو زندگی سے نفرت ہوگئی ہے، ایک ایک لمحہ ان پر بوجھ بن کرگزررہا ہوتا ہے۔ان بچیوں کو بھی اور ان عورتوں کو بھی جنہوں نے اس قسم کے خطوط لکھے یا دل میں تمنا تو پیدا ہوتی ہے لیکن خطوط نہیں لکھ سکیں ان کو میں بتانا چاہتا ہوں کہ احمدی مستورات قربانیوں میں ہرگز اپنے مردوں سے پیچھے نہیں ہیں۔شہادت میں وہ بیویاں جو بیوگی کی زندگی بسر کرنے کے لئے پیچھے رہ جاتی ہیں ان کے متعلق یہ گمان کرنا کہ ان کے خاوند تو ثواب پا گئے اور وہ محروم رہ گئیں ، وہ آگے نکل گئے اور یہ پیچھے رہ گئیں یہ بالکل غلط خیال ہے۔مردوں کی شہادت کی عظمت کے اندر ان کی