خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 438 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 438

خطبات طاہر جلد۵ 438 خطبہ جمعہ ۲۰ /جون ۱۹۸۶ء جن کے قاتل آزاد پھر رہے ہیں۔جب حکومت شامل ہو قتل میں، جب حکومت کی پوری سرپرستی حاصل ہو اور حوصلہ افزائی ہو رہی ہو جرائم کی اس وقت یہ توقع رکھنا کہ قاتل پکڑے جائیں گے یا پکڑے جائیں گے تو پھر انصاف کے مطابق ان کو سزادی جائے گی یہ ویسے ہی غلط بات ہے۔اللہ تعالیٰ کا جو قانون ہے وہ بہر حال چلتا ہے اور اس کو چلنے سے کوئی دنیا کی طاقت روکا نہیں کرتی اس لئے ان معاملات میں جہاں تک انتقام کا تعلق ہے جماعت کو اس جذبہ سے الگ رہتے ہوئے اپنے درد کے جذبات کو بہتر سمتوں میں رواں کرنا چاہئے اور خدا تعالیٰ سے ہدایت کی دعا طلب کرنی چاہئے۔اس درد کا بدلہ تو خدا نے بہر حال دینا ہے ان قربانیوں کی جزا تو آسمان سے بہر حال ملنی ہے سوال یہ ہے کہ اس کے نتیجہ میں کیا بدلہ طلب کیا جائے اور کیا جزا مانگی جائے۔جہاں تک حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے اسوہ حسنہ کا تعلق ہے ہمارے لئے یہ بات ہمیشہ کے لئے کھل چکی ہے کہ آنحضرت اللہ نے اپنے اور اپنے ساتھیوں پر ہونے والے مظالم کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ سے قوم کے لئے ہدایت کی دعا مانگی اس لئے اس ظلم کے نتیجہ میں بھی میں جماعت کو یہی نصیحت کروں گا کہ وہ قوم کے لئے ہدایت کی دعا کریں۔ظالموں کو اگر ہدایت نصیب ہو جائے تو اس سے بہتر جزا اور کوئی نہیں ہوسکتی۔امر واقعہ یہ ہے کہ ہدایت سے بہتر جزا نہ اس دنیا میں مل سکتی ہے اور نہ اس دنیا میں نصیب ہو سکتی ہے۔کوئی انتقام اس طرح دل کو ٹھنڈا نہیں کر سکتا جس طرح یہ نظارہ کہ وہ لوگ جو ظالم تھے ان کے سر شرم سے جھکے ہوئے ہیں اور ان کو نظریں ملاتے ہوئے حیا آتی ہے اور وہ جانتے ہیں کہ وہ ظالم تھے۔اور اندر ہی اندر ایک اندرونی آگ میں ہر وقت جلتے رہتے ہیں کہ ہم سے یہ کیا غلطیاں سرزد ہوئیں۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ شیخو پورہ سے ایک وفد حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی خدمت میں آیا۔ایک نوجوان نے تازہ تازہ بیعت کی تھی اور اسے بہت شوق تھا کہ میں خلیفہ اسیح سے ملوں۔ملاقات کے وقت اس کی نظریں جھک گئیں اور مسلسل آنسوؤں کی موسلا دھار بارش تھی جو آنکھوں سے برس رہی تھی۔ایک لمحہ کے لئے بھی وہ رکا نہیں مسلسل روتا رہا۔باہر نکل کر ضلع کے امیر صاحب اور دوسروں نے کہا میاں ! تم اچھا شوق کا اظہار کیا کرتے تھے پیچھے پڑے ہوئے تھے کہ مجھے بھی لے کر جاؤ ، میں نے بھی ملاقات کرنی ہے۔تمہیں ہوا کیا ؟ تم نے تو آنکھ اٹھا کر دیکھا بھی نہیں۔اس نے اس کا جواب یہ دیا کہ 74ء میں جو احمدیوں پر مظالم کئے جارہے تھے میں اس گروہ کا سرغنہ تھا جو مظالم میں