خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 38
خطبات طاہر جلد۵ 38 خطبہ جمعہ ۱۰ جنوری ۱۹۸۶ء خدا اس بات پر قادر نہیں ہے کہ مردوں سے زندہ پیدا کر سکے؟ پھر اسی مضمون کو آگے بیان فرماتا ہے: ين : ۸۲-۸۴) اَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ بِقَدِرٍ عَلَى أَنْ يَخْلُقَ مِثْلَهُم بَلَى وَهُوَ الخَلْقُ الْعَلِيمُ إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا اَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ فَسُبْحْنَ الَّذِي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ کیا وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اس بات پر قادر نہیں کہ اُن کی طرح کی اور مخلوق پیدا کر دے یہاں مضمون کو اور بھی پیچھے لے جایا گیا ہے، آسمانوں اور زمین کی پیدائش کی طرف توجہ پھیر دی گئی کہ اتنا وسیع نظام کائنات کا موجود ہے اُس کی تخلیق پر کیوں تم غور نہیں کرتے کہ کتنا حیرت انگیز نظام ہے اور یہاں آکر اٹک جاتے ہو کہ یہ کیسے ہو سکتا کہ ہم دوبارہ زندہ ہو جائیں۔جو تم موجود ہو تمہیں ایک نئی تخلیق نہیں مل سکتی ہے اور جب کچھ بھی نہیں تھا اس سے اتنی عظیم الشان تخلیق ہوگئی اس پر تم تعجب نہیں کرتے۔پھر فرماتا ہے: فَلَا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ إِنَّا لَقَدِرُوْنَ عَلَى اَنْ تُبَدِّلَ خَيْرًا مِّنْهُمْ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ (المعارج : ۴۱_۴۲) ہر گز نہیں۔جو تم سوچ رہے ہو غلط ہے اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ میں تم کھاتا ہوں اُس ذات کی جو مشارق کا بھی رب ہے اور مغارب کا بھی رب ہے یعنی ہر جونئی صبح طلوع ہوتی ہے اور جہاں جہاں سے کسی قسم کی بھی صبح طلوع ہوتی ہے ایک نیا نظام بنتا ہے ان سب کا بھی خدا ہی رب ہے اور جب ایک نظام تباہ ہوتا ہے اور غرق ہو جاتا ہے۔جب ایک قوت اُبھرتی ہے اور پھر ڈوب بھی جاتی ہے تو جس جس معنی میں بھی کوئی چیز ڈویتی اور نظر سے غائب ہوتی ہے اُس کا بھی وہ رب ہے۔یعنی خدا سے دور کوئی بھی چیز نہیں ہو سکتی خدا سے کوئی بھی چیز غائب نہیں ہو سکتی ہے۔فرمایا میں اُس کی قسم کھا کر کہتا ہوں ہم اس بات پر قادر ہیں کہ وہ قو میں جو خدا کے انبیاء کی مخالفت کرتیں ہیں ان کو لے جائیں اَنْ تُبَدِّلَ خَيْرًا مِنْهُمْ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِيْنَ