خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 429 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 429

خطبات طاہر جلد۵ 429 خطبه جمعه ۱۳ جون ۱۹۸۶ء إِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوا وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيْلِ اللهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِى جَعَلْنَهُ لِلنَّاسِ سَوَاءِ الْعَاكِفَ فِيهِ وَالْبَادِ وَمَنْ تُرِدْ فِيْهِ بِالْحَادِ بِظُلْمِ تُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ اليمن (الج ٣٦) کہ یقیناً وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيْلِ اللَّهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وہ اللہ کی راہ سے اور مسجد حرام سے روک رہے ہیں لوگوں کو۔مسجد حرام سے روکنا صرف یہ نہیں ہے کہ مسجد حرام تک پہنچنے نہ دیا جائے وہ بھی یہ روک بیٹھے ہیں ہمیں۔اب معنوی طور پر ایک حصہ رہ گیا تھا اس سے بھی روک دیا اور کامل طور پر اس آیت کو اپنے حق میں چسپاں کر بیٹھے۔پہلے حج بند کر کے روکا اور اب رخ اس طرف اختیار کرنے سے منا ہی کر دی گئی۔حکم دیا گیا کہ منہ بھی ادھر نہیں کرنا۔یہ تمہارا حکم ہے اور خدا کا ہمیں حکم یہ ہے کہ اسی طرف منہ کرنا ہے کسی اور طرف نہیں کرنا اور خدا تعالیٰ کا ان روکنے والوں کے متعلق حکم یہ ہے اِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيْلِ اللهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وہ لوگ جو کافر ہوئے ان کے سوا یہ حرکت کر کوئی نہیں سکتا۔انہوں نے اللہ کی راہ سے روکا اور مسجد حرام سے روکا جس کو ہم نے جَعَلْنَهُ لِلنَّاسِ سَوَاءَ تمام بنی نوع انسان کے لئے برابر بنایا تھا۔خواہ اس مسجد حرام کے پاس بسنے والا یا اس میں بیٹھ رہنے والا ہو یا بادیہ نشین ہوا اور صحراؤں میں بستا ہو۔یہاں بھی دو باتیں اکٹھی بیان ہوئی ہیں جسمانی بھی اور معنوی بھی۔جو وہاں بیٹھے ہوئے ہیں جسمانی طور پر وہاں پہنچ گئے ہیں ان کو بھی کو روکنے کا حق نہیں اور جو دور بیٹھے ہوئے تعلق ظاہر کر رہے ہیں اس مسجد سے ان کو بھی روکنے کا حق نہیں۔دونوں کے لئے برابر ہے یہ۔پس احمدیوں کو قرآن کی اس آیت کے ہر معنوں میں روکا جارہا ہے مسجد حرام سے تعلق رکھنے سے لیکن خدا فرماتا ہے وَمَنْ يُرِدْ فِيْهِ بِالْحَادِ بِظُلْمِ پھر وہی ظلم کا لفظ دہرایا ہے کہ جو کوئی بھی یہ حرکت کرے گا اپنی ذہنی کجھی کی بناء پر ، اپنے دل کی کبھی کی بنا پر اور ظلم کی راہ سے تُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ اَلِيْهِ ہم ہیں جو اس کو دردناک عذاب میں مبتلا کریں گے۔پس آج جو پاکستان میں وہابیت کو نافذ کرنے کی جنگ شروع کی گئی ہے یا چند سال پہلے شروع کی جا چکی ہے وہ اس لحاظ سے اپنے انجام کو پہنچ رہی ہے کہ رفتہ رفتہ اللہ تعالیٰ ہمیں ایک طرف