خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 428 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 428

خطبات طاہر جلد۵ 428 خطبه جمعه ۱۳ جون ۱۹۸۶ء فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ ہرگز ان سے نہیں ڈرنا مجھ سے ڈرو۔اگر ان کے کہنے پر تم قبلہ تبدیل کرو گے تو پھر یہ تمہارے خدا بن جائیں گے۔میرا قبلہ تو ڑو گے تو میرے ساتھ تمہارا کوئی تعلق باقی نہیں رہے گا۔اس لئے آج یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ملاں کو خدا بنانا ہے یا رب العالمین کوخدا بنائے رکھنا ہے۔پس میں جماعت احمدیہ کے ہر فرد بشر کی طرف سے ہر بڑے اور ہر چھوٹے کی طرف سے ہر مرد اور ہر عورت کی طرف سے ہر بوڑھے اور ہر جو ان کی طرف سے یہ اعلان کرتا ہوں اللہ رب العالمین ہمارا خدا ہے اور وہی ہمارا خدا ر ہے گا اور ملاں کی خدائی کے منہ پر ہم تھوکتے بھی نہیں۔یہ ملاں کی خدائی جو چاہتی ہے اس جرم میں ہم سے کرے کہ تم اپنا قبلہ تبدیل کر لو ہم اپنا قبلہ ہرگز تبدیل نہیں کریں گے۔پھر یہ دلیل قائم کرتے ہیں کہ خانہ کعبہ تو ہمارا ہے یعنی ان مسلمانوں کا جن کو یہ بعض علماء مسلمان سمجھتے ہیں اور بعض دوسرے علماء مسلمان نہیں سمجھتے لیکن وہ سارے مل کر ہمیں غیر مسلم قرار دے رہے ہیں اس لئے فی الحال یہ کہتے ہیں ہمیں اندرونی اختلافات کی بحث کی ضرورت نہیں۔ہم کو کوئی شبہ نہیں کہ وہابی بریلوی کو پکا مشرک سمجھتے ہیں ایسا مشرک جس کے متعلق فتویٰ دے رکھا ہے ہمارے بزرگوں نے کہ اسلام سے ان کا دور کا بھی تعلق نہیں لیکن ملاں کو سیاست آتی ہے ملاں جانتا ہے کہ ہر وقت اندر کے معاملات نہیں کھولنے چاہئیں دنیا کے سامنے اس لئے بظاہر اس وقت یہی بات چلے گی کہ ہم سب نے مل کر احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے رکھا ہے اس لئے غیر مسلموں کا خانہ کعبہ سے کیا تعلق۔یہ اللہ کا وہ گھر ہے جو صرف مسلمانوں کے لئے خاص ہے۔قرآن کریم سے ہم جب پوچھتے ہیں کہ یہ مسئلہ ہے کیا ؟ خانہ کعبہ آخر کس کی خاطر بنایا گیا تھا ؟ تو قرآن کریم ہمیں آواز دیتا ہے إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَيَّةَ ( آل عمران :۹۷) کہ وہ پہلا گھر جو خدا کی عبادت کے لئے تمام بنی نوع انسان کے لئے بنایا گیا تھا وہ مکہ ہی میں تھا اور یہی وہ گھر ہے۔پھر قرآن کریم ہماری ایک اور راہنمائی فرماتا ہے جب یہ کہتا ہے۔