خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 424 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 424

خطبات طاہر جلد ۵ 424 خطبه جمعه ۱۳ جون ۱۹۸۶ء صلى الله جرات سے۔ میں نے بے حجابی کا لفظ صحیح استعمال کیا ۔ زمانہ آیا ہوا ہے بے حجابی کا ان کے لئے ۔اس قدر بے حجابی سے یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ وہ مشرک جو کچھ بھی حضرت اقدس محمد مصطفیٰ لیا ہے اور آپ کے غلاموں سے جو سلوک کیا کرتے تھے ان ان جرائم کی پاداش میں جرائم بھی گنائے ہیں نماز پڑھنا، اذان دینا، کلمہ پڑھنا ۔ اتنے بڑے بڑے بھیانک جرم کیا کرتے تھے وہ لوگ ۔ تو مشرکوں نے ہمیں طریقے سکھا دیئے کہ ان سے کس طرح نمٹا جاتا ہے ۔ تو ہم انہی مشرکوں کے نقش قدم پر انہی سے طریقے سیکھ کر احمد یوں سے یہ سلوک کر رہے ہیں۔ صلى الله پھر کہتے ہیں کہ اپنی مسجدوں کے رخ بدل دو یہ اسلامی شعائر کے خلاف ہے۔ جب ہم نے کہہ دیا ہے کہ اسلام سے تمہارا تعلق نہیں تو تمہاری مسجدوں کے رخ بدل جانے چاہئیں ، قبلے بدل جانے چاہئیں۔ در حقیقت پہلا دعوی بھی خدائی ہی کا دعوی ہے، عالم الغیب ہونے کا دعوی بھی ہے۔ اور یہ دعوی بھی ہے کہ ہم تمہارا مذہب معین کریں گے اور جو مذہب ہم قرار دیں اس پر تمہیں چلنا لازم ہوگا ۔ اور ہمارے مذہب کا ان کے نزدیک اب خلاصہ یہ ہے کہ حضرت جل شانہ حضرت احدیت کا انکار کیا جائے اور توحید کا انکار کر دیا جائے اور حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ﷺ کی رسالت اور عبدیت کا انکار کر دیا جائے۔ یہ مذہب ان کے دماغوں نے تجویز کیا جماعت احمدیت کے لئے ۔ مذہب تو خدا بنایا کرتا ہے اور ہم تمہارے جیسے خداؤں کا انکار کرتے ہیں اور لاکھ مرتبہ نہیں کروڑوں مرتبہ ہر احمدی اپنے عمل کے ہر لمحے اس کے ہر جزء کے ساتھ تمہاری خدائی کا انکار کر رہا ہے۔ اس لئے جو چاہو کرو۔ مشرکوں سے سبق سیکھو یا ان سے آگے بڑھ جاؤ لیکن احمدیت تمہیں خدا قبول کرنے کے لئے کسی قیمت پر بھی کسی لمحہ بھی تیار نہیں ہو گی ۔ تمہیں غیر اللہ کی عبادت کا شوق ہے یہ عادتیں پڑچکی ہیں تو بے شک کرتے رہو۔ ہمارا یہ اصول نہیں کہ غیر کے مذاہب میں دخل دیں۔ تمہیں تمہارے مذہب مبارک ہوں لیکن احمدیت کا تو وہی مذہب ہے جو قرآن اور محمد مصطفیٰ ﷺ کا مذہب تھا اور ہے اور رہے گا۔ اور کوئی دنیا کا مولوی اس مذہب کو تبدیل نہیں کر سکتا ۔ کوئی دنیا کی استبدادی حکومت اس مذہب کو تبدیل نہیں کر سکتی ۔ ان کی آواز یہ ہے کہ رخ بدلو مسجدوں کا ہمیں تسلی ہو جائے گی ۔ تمہاری تسلی سے ہمیں غرض کیا ہے ہم تو اپنے خدا کی تسلی چاہتے ہیں ، ہم تو اپنے نفوس کی تسلی چاہتے ہیں، اپنے قلوب کی ہتے ہیں۔ تمہاری تسلی نہیں ہوتی تو نہ ہو۔ حضرت محمد مصطفی ﷺ نے کب کفار مکہ کی تسلی کروائی تسلی چاہتے ہیں۔ صلى الله عروسة ۔