خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 37 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 37

خطبات طاہر جلد ۵ 37 خطبه جمعه ۱۰ جنوری ۱۹۸۶ء پھر فرماتا ہے: أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِنْ مَّنِي يُمْنَى ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَى أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَدِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِ الْمَوْتَى (القیمه : ۳۸ - ۴۱) کہ تم محض تعجب کی وجہ سے خدا کی نئی تخلیق کا انکار کرتے ہو یعنی آئندہ کو تو تعجب کی نگاہ سے دیکھتے ہو لیکن ماضی میں جو گزر گیا ہے اس پر تعجب ہی نہیں کر رہے تم کچھ حالانکہ وہ زیادہ تعجب کے لائق بات ہے جو کچھ ہو چکا ہے وہ اتنا حیرت انگیز ہے، اتنا تعجب میں مبتلا کرنے والا ہے کہ اگر تم اُس کو دیکھو اور اُس کی کنبہ تک پہنچو اور تعجب میں مبتلا ہو تو تعجب تو کوئی اعتراض کی وجہ بھی باقی نہیں رہتا یعنی اللہ تعالیٰ اس مضمون کو اس طرح بیان فرما رہا ہے کہ اکثر نئی زندگی کا انکار تعجب کی بناء پر کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کیسے ہو سکتا ہے کہ ہڈیاں گل سڑ جائیں گی ہم مرکھپ جائیں گے، دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ کتنا مشکل کام ہے بظاہر ناممکن نظر آتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بے وقوفو! تعجب کے نتیجے میں اگر تخلیق نہیں ہو سکتی تو تمہاری تخلیق اول کہاں سے ہوگئی ؟ اُس میں تو زیادہ تعجب کے محرکات موجود ہیں اور موجبات موجود ہیں۔ اتنا تعجب انگیز ہے مضمون تمہاری تخلیق اول کا کہ اُس پر غور کرو پھر سوچو کہ جس خدا نے یہ تخلیق پیدا کر دی تھی وہ اُس کے تخلیق نو پر کیوں قادر نہیں ہو سکتا جو کچھ بھی نہ ہو اس سے ایسا حیرت انگیز تخلیق کا نظام پیدا کر دے کچھ ہو تو اُس سے پھر آگے کیوں پیدا نہیں کر سکتا یہ مضمون ہے نسبتاً کم تعجب کی بات ہے ۔ فرماتا ہے کیا وہ کسی وقت پانی کا ایک قطرہ نہیں تھا یہ تعجب کرنے والا انسان، جو اپنی مناسب حال جگہ میں ڈالا گیا پھر وہ ایک چمٹنے والا لوتھڑا بن گیا۔ پھر اُس خدا نے اُس کو اور شکل میں تبدیل فرما دیا اور پھر آخرا سے مکمل کر دیا یعنی کچھ بھی نہیں تھا محض گندگی کا ایک کیڑا تھا جس سے اتنا کامل انسان خدا نے بنا دیا۔ پھر اسے جوڑا جوڑا کر کے بنایا یعنی معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے مضمون سے پہلے جو حیوانی حالت میں انسان گزرا ہے اس کا ذکر پہلے فرمایا جا رہا ہے۔ زندگی کے آغاز کا مضمون چلایا گیا ہے کہ مختلف حالتوں سے زندگی گزرتی ہوئی آگے بڑھی جہاں تک پہلے جوڑا جوڑا نہیں تھی پھر اُسے جوڑا جوڑا بنایا گیا یعنی نر و مادہ کی تمیز کی گئی یعنی نر اور مادہ کی شکل میں بنایا گیا۔ کیا یہ