خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 415 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 415

خطبات طاہر جلد۵ 415 خطبہ جمعہ ۶ جون ۱۹۸۶ء تین گھر مقرر کر لیں، روزانہ ان کی کنڈی کھٹکھٹانی ہے اور ان کو آواز دینی ہے کہ خدا تمہیں مسجد کی طرف بلا رہا ہے تم گھر بیٹھے کیا کر رہے ہو؟ چنانچہ ان تینوں بابوں نے ( ہم پیار سے ان کو بابے کہا کرتے تھے ناصر آباد کے ) بہت اچھی طرح عہد کو نبھایا اور دیکھتے دیکھتے اتنی رونق پیدا ہوگئی مسجد میں کہ دیکھ کر لطف آتا تھا۔صحن بھر جاتا تھا بچے کچھ شور بھی مچاتے تھے مگر وہ بھی اچھے لگتے تھے کہ آخر خدا کی خاطر آئے ہوئے ہیں مسجد میں بچوں والی حرکتیں بھی کریں گے بہر حال۔تو یہ ایک خاص وہاں کے بزرگ تھے اس لحاظ سے ، بہت دعا گو اور ہمیشہ نماز میں حاضر ہونے والے۔ان کے بیٹے عبدالحئی صاحب انصار اللہ کے زعیم بھی ہیں وہاں۔ان کو بھی نماز جنازہ میں خاص طور پر دعاؤں میں یا درکھیں اور اس ضمن میں یہ دعا بھی کریں کہ جو نیک کام انہوں نے عبادت کے لئے جاری کئے ہوئے تھے جو کوشش کرتے تھے اس کوشش کو اللہ تعالیٰ بعد میں آنے والی نسلوں کو سنبھالنے کی توفیق عطا فرمائے۔شیخ انور علی صاحب والد شیخ خالد جاوید، شیخ اعجاز احمد صاحب پیرس میں دو ہمارے دوست ہیں نوجوان شیخ خالد جاوید، شیخ اعجاز احمد صاحب ان کے والد ہیں، ان کی طرف سے درخواست آئی ہے۔مکر مہ اہلیہ عبد المومن محمود صاحب PAF پشاور کے ہیں نہیں جانتا مگر بہر حال ان کی طرف سے بھی درخواست آئی ہے ، ان کی اہلیہ وفات پاگئی ہیں۔