خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 412 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 412

خطبات طاہر جلد۵ 412 خطبہ جمعہ ۶ جون ۱۹۸۶ء کے دل ٹھنڈے ہوں تا کہ ہمارے دل ٹھنڈے ہوں۔وہ جو باہر بس رہے ہیں وہ ان کی تکلیفوں کو اپنے سینوں سے لگائے پھر رہے ہیں۔اس لئے اے خدا! جب تک ان کی تکلیفیں دور نہیں ہوتیں ہمارے دل کیسے ٹھنڈے ہوں گے اس لئے ان پر اپنے خاص فضل اور رحمت کی نظر فرما۔وہ احمدیت کی خاطر جیلوں میں صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں ، طرح طرح کی مصیبتوں میں مبتلا ہیں، ان کو ہر قسم کے گھٹیا او باش لوگ سڑکوں میں گالیاں دیتے ہیں اور ذلیل کرتے ہیں اور اس جرم میں مارتے ہیں کہ تم کلمہ طیبہ اپنے منہ سے بلند کر رہے ہو اور کلمہ طیبہ سے پیار کا اظہار کر رہے ہو۔ان کو مارا جاتا ہے ،ان کو گلیوں میں گھسیٹا جاتا ہے، ان کو طرح طرح کی اذیتیں دی جاتی ہیں ، ان پر آوازے گئے جاتے ہیں ان کو عام ہر ادنی شخص جس کو خدا کی عظمت کا تصور بھی کوئی نہیں، جس کی ساری زندگی اس کے اس دعوے کو جھٹلا رہی ہوتی ہے کہ وہ حقیقی مسلمان ہے، وہ اٹھتا ہے اور ان کو اٹھا کر گھسیٹتا ہوا اپنے ساتھ کچھ اور لوگ لگا کر تھانوں میں پہنچاتا ہے اور گورنمنٹ کے کارندوں کے ہاتھوں ان کو ذلیل و رسوا کرواتا ہے۔مقدمے بنے ہوئے ہیں ان پر اور مقدمہ کا بڑا جرم یہ ہے کہ انہوں نے کلمہ طیبہ لا الہ الا الله محمد رسول اللہ کا اقرار کیا تھا اور اس سے محبت کا اظہار کیا تھا اور اسے اپنے سینہ سے لگایا تھا۔ایسی بدقسمتی ہے اس قوم کی کہ وہ تحریک جو کسی زمانہ میں آنحضرت ﷺ کے بدترین دشمنوں نے شروع کی تھی۔اسے آج محمد مصطفی صلے کی غلامی کا دعوی کرنے والوں نے اپنا لیا ہے اور کوئی حیا اس بات پر نہیں آ رہی کہ ہم کیا حرکت کر رہے ہیں۔اس لئے ان کے لئے بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اس لعنت سے نجات بخشے۔یہ بہت ہی بڑی لعنت ہے کہ محمد مصطفی ﷺ کی غلامی کا دم بھر کے آپ کے شدید ترین دشمنوں کا شعار اپنا لیا جائے اور اپنے مظلوم احمدی بھائیوں کے لئے بھی دعا کریں وہ ہم سب کا فرض کفایہ ادا کر رہے ہیں۔عیسائیوں میں ایک تصور ہے کفارے کا۔اسلام تو اس کو قبول نہیں کرتا لیکن کفارے کی بجائے اسلام کفایہ کا تصور پیش فرماتا ہے۔کفایہ کا مطلب یہ ہے کہ وہ ذمہ داری جو ساری قوم کے اوپر ڈالی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ رحمت کا سلوک فرماتے ہوئے یہ سہولت دے دیتا ہے کہ اگر قوم میں سے چند آدمی بھی اس ذمہ داری کو ادا کر دیں تو وہ ساری قوم کی طرف سے ادا ئیگی سمجھی جاتی ہے۔فقہی اصطلاح میں اسے کفایہ کہتے ہیں یعنی چند آدمیوں کا عمل باقی لوگوں کی طرف سے کفایت کر جائے۔چنانچہ