خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 394
خطبات طاہر جلد۵ 394 خطبه جمعه ۳۰ رمئی ۱۹۸۶ء رہ جائے گا ، اکثر فوائد سے محروم رہ جائے گا۔اس لئے اپنے گھروں کو بقیہ دن جتنے بھی باقی ہیں ان کو آداب کی فیکٹریاں بنادو۔اسلامی آداب اور اسلامی اخلاق جو جو کمزوریاں عام حالات میں بچوں میں الله پائی جاتی ہیں ان کو دور کرنے کی طرف متوجہ ہو اور روزہ کا واسطہ دے کر آنحضرت ﷺ کے ارشادات بتا بتا کر بچوں کو سمجھاؤ کہ تم پہلے زبان سے ایسی بے احتیاطی کر لیا کرتے تھے اب روزہ آگیا ہے اب بالکل نہیں کرنی۔اور اسی طرح دیگر امور میں بھی تلاوت کی عادت ڈالنا ، ذکر الہی کی عادت ڈالنا ، دعاؤں کی عادت ڈالنا، حسن سلوک کی عادت ڈالنا، حقوق کی ادائیگی کی عادت ڈالنا، زبان کو جھوٹ سے کلیۂ پاک کرنے کی عادت ڈالنا، صاف اور سچی بات کی عادت ڈالنا ، قول سدید کی عادت ڈالنا، یہ سارے مواقع ہیں روزہ کے لئے۔پس جب آنحضرت علہ فرماتے ہیں کہ جہنم کے سارے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں تو ساتھ یہ بھی فرماتے ہیں کہ جنت کے سارے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔تو صرف منفی پہلو نہیں رکھنا بلکہ اس مثبت پہلو پر بھی نظر رکھیں۔اور یہ دروازے کھولیں گے تو کھلیں گے۔اگر آپ نے اپنے حواس خمسہ میں سے ہر ایک کے لئے اس عرصہ میں نیکی کے دروازے نہ کھولے تو جہنم کے دروازے تو بند کر رہے ہوں گے لیکن بے مقصد اس کے بدلے کوئی نیکی کا دروازہ نہیں کھول رہے ہوں گے۔پس مراد یہ ہے کہ ہر بدی کے بدلہ ایک خوبی پیدا کرو۔ہر بدصورتی کے بدلہ ایک حسن پیدا کرو اور تمیں (۳۰) دن مسلسل اس جدو جہد میں گزار دو کہ تمہاری بدیاں چھٹ کر پیچھے رہ جائیں اور تمہاری نیکیاں رمضان کی برکت سے بڑھتے بڑھتے نمایاں ہو کر غیر معمولی چمک کے ساتھ آگے بڑھیں اور ہر رمضان جو گزرتا ہے وہ پہلے سے بہتر حالت میں تمہیں پائے۔یہ مقصد ہے روزے کا اور جماعت احمدیہ کو اس طرف خصوصیت کے ساتھ اب توجہ کرنی چاہئے بلکہ وقت ہے کہ اس کے متعلق جہاد شروع کیا جائے ، عالمی پیمانے پر۔جس طرح عبادت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم باقی سب کو غیر معمولی طور پیچھے چھوڑ گئے ہیں اسی طرح روزہ کے میدان میں بھی انشاء اللہ یہ عہد کر کے اٹھیں کہ ہم نے لازماً باقی سب دنیا کے مسلمان کہلانے والے ہوں یا دوسرے ہوں سب کو پیچھے چھوڑ دینا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا روزوں کی طرف جورجحان تھا وہ آپ کے الفاظ میں