خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 393 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 393

خطبات طاہر جلد ۵ 393 خطبه جمعه ۳۰ رمئی ۱۹۸۶ء اب جن گھروں میں بچوں کو روزہ رکھنے کی ترغیب بھی دی جاتی ہے ان کو اس سلیقے کے ساتھ نہیں روزہ رکھایا جاتا کہ جو زیادہ اہم چیز ہے اس کی طرف متوجہ ہوں بلکہ آخری منٹوں میں جب کھانے کا وقت ہے ان کو کہہ دیا جاتا ہے آؤ روزہ رکھ لو اور اسی کو کافی سمجھا جاتا ہے۔اس لئے درست ہے کہ اسلام توازن کا مذہب ہے ، میانہ روی کا مذہب ہے لیکن میانہ روی کا مذہب ہے کم روی کا مذہب تو نہیں۔میانہ روی اختیار کرو۔جہاں خدا نے فرض قرار دیا ہے وہاں اس کو فرض سمجھو۔جہاں فرض نہیں قرار دیا وہاں اس رخصت سے خدا کی خاطر استفادہ کرو۔یہ نیکی ہے،اس کا نام میانہ روی ہے۔اس لئے جماعت کو اپنے روزہ کے معیار کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے اور روزے رکھوانے کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے اور روزہ کا معیار بڑھانے کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے۔معیار میں ایک تو صبح کی تہجد کی نماز ہے، دوسرے روزہ کے دوران کے آداب ہیں۔روزہ کے دوران لڑائی، جھگڑا، تیز گفتگو، نا جائز حرکات یہ ساری چیزیں بے معنی اور لغو ہو جاتی ہیں مومن کے لئے۔اور یہ ایک تربیت کا دور ہے۔جس شخص کو ایک مہینہ یہ تربیت ملتی ہے کہ اس نے اپنی زبان پر قابورکھنا ہے۔اس سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ مہینہ گزرنے کے بعد بھی زبان پر قابو ہی رکھے گا۔یہ مراد تو نہیں ہے کہ مہینہ کا انتظار ہو رہا ہے مہینہ ختم ہو تو پھر میں گالیاں شروع کروں۔جس کو ایک مہینہ ذکر الہی کی عادت پڑ جائے ، جس کی زبان تر ہو اللہ کی محبت اور پیار سے، جس کا دل بھرا ہوا اللہ کے ذکر سے، ایک مہینہ کے بعد اس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ واپس اپنی پرانی گندی عادتوں کی طرف لوٹ جائے گا یہ ایک بالکل لغو اور بے معنی توقع ہے۔اگر لوقا ہے تو پھر وہ روزہ کو سمجھا ہی نہیں اور اس نے روزہ سے فائدہ ہی نہیں اُٹھایا۔یہ تو ویسا ہی ہے کہ ایک مہینہ کسی کو اچھی غذا کھلائی جائے اور وہ انتظار کر رہا ہو کہ مہینہ ختم ہو تو پھر میں دوبارہ گند کھانا شروع کر دوں اور مہینہ ختم ہوتے ہی کہے کہ بہت اچھا شکر ہے اب موقع آگیا اچھی غذا ئیں جائیں جہنم میں اب میں گندگی شروع کرتا ہوں۔تو روزہ تو باقی گیارہ مہینوں کی بھی ضمانت دینے کے لئے آتا ہے۔باقی گیارہ مہینوں کے بھی آداب سکھانے کے لئے آتا ہے لیکن اس مہینہ میں آداب سکھائے جائیں تو باقی گیارہ مہینے ان آداب کا اثر پڑے ناں۔اگر صرف بھوک کا نام روزہ ہے تو پھر تو انسان روزہ کی اکثر نیکیوں سے محروم