خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 392
خطبات طاہر جلد۵ 392 خطبه جمعه ۳۰ رمئی ۱۹۸۶ء تھی ، صحابہ زندہ تھے ، اولین تا بعین زندہ تھے جنہوں نے صحابہ سے تربیت حاصل کی تھی اس لئے اس زمانہ میں کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ احمدی روزہ میں کمزور ہیں اور طریق یہی تھا کہ بچپن سے ہی مائیں گھروں میں تربیت دیتی تھیں اور 9، 10 سال کی عمر سے بچے روزہ رکھنا شروع کر دیتے تھے۔اور بلوغت سے مراد انگریز کی مقرر کردہ بلوغت نہیں لی جاتی تھی کہ انگریز نے 21 سال کہہ دیا تو 21 سال میں بالغ ہوگا اور 21 سال میں شریعت فرض ہوگی۔انگریز نے 18 مقرر کر دیئے تو 18 سال کے بعد شریعت فرض ہوگی بلکہ انسانی اصطلاح میں عام عرف عام میں جب بھی انسان بالغ ہوتا تھا وہ پورے روزے رکھنے کی کوشش کرتا تھا اور چونکہ روزہ کی بلوغت کے معاملہ میں کچھ اختلافات فقہاء میں بھی پائے جاتے ہیں اور نشو ونما کی عمر کے بچوں کے لئے نسبتاً سہولت بھی دے رہے ہیں بعض فقہاء،اس لئے اس معاملہ میں بھی سختی غیر معمولی نہیں کی جاتی تھی بلکہ جس کو کہتے ہیں Encourage کرنا ،حوصلہ افزائی کرنا۔حوصلہ افزائی کے طور پر کوشش کی جاتی تھی کہ جو بچے بالغ ہو چکے ہیں یعنی 12 - 13 - 14 سال کی عمر میں داخل ہو جائیں وہ کوشش کریں کہ وہ زیادہ سے زیادہ رمضان کے روزے رکھیں اور جب وہ پختہ عمر میں پہنچتے تھے یعنی 18 - 19 سال کی عمر میں تو پھر تو وہ لازماً پورے کے پورے رمضان کے روزے رکھا کرتے تھے۔اس پہلو سے رفتہ رفتہ خصوصاً تقسیم کے بعد میں نے دیکھا ہے کہ کمزوری آئی ہے۔دوسری بات رمضان کے روزوں کے سلسلہ میں جو قادیان میں رائج دیکھی اور وہ بہت ہی ضروری اور مفید تھی جس کو میں نے دیکھا ہے کہ بعد میں بہت گھروں میں ترک کر دیا گیا۔وہ یہ تھی کہ روزہ شروع ہونے سے پہلے بچوں کو اس وقت نہیں اٹھاتے تھے کہ صرف کھانے کا وقت رہ جائے بلکہ لازماً اتنی دیر پہلے اٹھاتے تھے کہ کم سے کم دو چار نوافل بچہ پڑھ لے اور مائیں کھانا نہیں دیتی تھیں بچوں کو جب تک پہلے وہ فضل سے فارغ نہ ہو جائیں۔سب سے پہلے اٹھ کر وضو کرواتی تھیں اور پھر وہ نوافل پڑھاتی تھیں تا کہ ان کو پتہ لگے کہ اصل روزہ کا مقصد روحانیت حاصل کرنا ہے۔تہجد پڑھیں، قرآن کریم کی تلاوت کریں پھر وہ کھانے پہ بھی آئیں اور اکثر اوقات الا ما شاء اللہ تہجد کا وقت کھانے کے وقت سے بہت زیادہ ہوتا تھا۔کھانا تو آخری دس پندرہ منٹ میں بڑی تیزی سے بچے کھا کر فارغ ہو جاتے تھے اور تہجد کے لئے ان کو آدھا گھنٹہ پون گھنٹہ اتنا ضرور مہیا کر دیا جاتا تھا۔