خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 385
خطبات طاہر جلد۵ 385 خطبه جمعه ۳۰ رمئی ۱۹۸۶ء نسلوں نے عبادت کے معیار میں ویسے ہی کمزوری دکھائی مگر نمازوں میں نسبتاً کم روزہ میں بہت زیادہ۔اب جب بار بار تاکید کی گئی تو بڑی خوش کن خبریں ساری دنیا کے ممالک سے آ رہی ہیں۔صرف مغرب سے نہیں ، پاکستان ہندوستان سے نہیں بلکہ سب دنیا کے ممالک سے کہ نئی نسلوں میں نمازوں کا معیار خدا کے فضل سے بہت بلند ہوا ہے لیکن روزہ کے متعلق ایسی خوشخبری کسی نے ذکر نہیں کی۔معلوم یہی ہوتا ہے کہ تجزیہ کرنے والے کی بات درست ہے۔جب ہم عبادت کا لفظ کہتے ہیں تو سننے والے احمدی بالعموم عبادت سے نمازیں مراد لے کر اسی کو کافی سمجھ لیتے ہیں۔حالانکہ عبادت میں اول حج ہے جو سب سے بڑی عبادت ہے اور پھر روزے ہیں جو حج سے نیچے تمام عبادتوں کا خلاصہ ہیں اور حواس خمسہ کی قربانیوں کا نچوڑ ہیں۔اسی طرح پھر نماز ہے جو مستقل عبادت اور غذا کی طرح ہے مومن کے لئے بلکہ اس پہلو سے مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔تو روزوں سے متعلق میں آج کچھ کہنا چاہتا ہوں باوجود اس کے کہ اب صرف نو روزے باقی ہیں آج کے بعد پھر بھی رمضان کی برکتوں میں سے جتنا بھی حصہ کسی کو نصیب ہو جائے وہ بھی بہت بڑی غنیمت ہے۔اور اگر آج کی گزری ہوئی رات لیلۃ القدر نہیں تھی تو پھر لیلۃ القدر بھی ابھی آنے والی ہے۔جس کی تلاش میں چودہ سو سال سے امت ہمیشہ غیر معمولی توجہ کرتی رہی ہے اور غیر معمولی محنت دکھاتی رہی ہے۔توجہ جستجو کے لحاظ سے کہ ان آخری دس راتوں میں سے کون سی رات وہ رات ہے اور محنت اس لحاظ سے کہ بعض لوگ راتوں کے اکثر حصہ کو جاگ کر گزارتے ہیں کہ ہمیں بھی لیلۃ القدر کی گھڑی نصیب ہو جائے۔اس پہلو سے اس بات کا امکان چونکہ موجود ہے کہ بقیہ نو راتوں میں ہی لیلتہ القدر کی رات بھی ہو اس لئے اب بھی اگر توجہ دلائی جائے تو یہ بہت زیادہ تا خیر نہیں ہوئی اور بہت بڑا استفادہ کرنے کا امکان روشن ہے۔آنحضرت ﷺ روزہ کی اہمیت واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں مگر اس سے پہلے جو قر آن کریم کی آیات میں نے تلاوت کی تھیں ان کا ترجمہ اور مفہوم آپ کے سامنے پیش کردوں فرمایا يُّهَا الَّذِينَ امَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ کہ اے وہ لوگوں جو ایمان لے آئے ہو تم پر روزے اسی طرح فرض کئے گئے ہیں جس طرح