خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 383
خطبات طاہر جلد۵ 383 خطبه جمعه ۳۰ رمئی ۱۹۸۶ء احباب جماعت روزہ رکھنے اور روزہ کا معیار بڑھانے کی طرف توجہ کریں نیز فدیہ اور لیلۃ القدر کی لطیف تشریح خطبه جمعه فرموده ۳۰ مئی ۱۹۸۶ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کریمہ کی تلاوت کی: يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ أَيَّامًا مَّعْدُودَتٍ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أخَرَ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ وَاَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ اور پھر فرمایا : (البقره: ۱۸۴-۱۸۵) b رمضان مبارک کا مقدس مہینہ اپنے اختتام کے آخری مراحل میں داخل ہو رہا ہے اور آج اکیسواں (۲۱) روزہ ہے۔جماعت کو میں کچھ عرصہ سے عبادت کا حق ادا کرنے کی طرف متوجہ کر رہا ہوں۔کمیت کے لحاظ سے بھی اور کیفیت کے لحاظ سے بھی۔اس لحاظ سے بھی کہ عبادت کا معیار تعداد میں بھی بڑھایا جائے اور اس لحاظ سے بھی کہ عبادت کا معیار اس کے روح اور معنی کے لحاظ سے اس کے مرتبہ کے لحاظ