خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 374
خطبات طاہر جلد۵ 374 خطبه جمعه ۲۳ رمئی ۱۹۸۶ء حال سے باخبر نہیں ہوتا صرف اللہ ہے جو ان کے حال سے باخبر ہوتا ہے۔ان کے لئے پیغام ہے یہ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِیزُ وہ ٹھیک کہتے ہیں وہ سچ کہتے ہیں ان کی کوششیں ضائع نہیں جائیں گی۔دنیا ان کو حقیر جانے ، دنیا ان کو حقیر اور بے طاقت سمجھے اس کے باوجود جس ذات کی خاطر وہ یہ کوشش کر رہے ہیں وہ قويٌّ عَزِيزٌ ہے اور وہ لازما غالب آئیں گے اور وہ لازماً اللہ کی عزت کے نشان دیکھیں گے۔اس مضمون کے بعد پھر خدا تعالیٰ ان کو بھی فتح میں ایک حصہ پانے والا بنادیتا ہے۔فرماتا ہے وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللهَ لَقَوِيٌّ عَزِیزُ کہ اللہ ان کی بھی مدد فرماتا ہے جو خدا کی مدد کرتے ہیں یعنی فتح کے اندر جو خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا ہونے والی ہے اس میں ان کا حصہ ڈال دیتا ہے۔فرماتا ہے صرف رسولوں ہی کی نہیں چونکہ یہ لوگ بھی مدد کے لئے آگئے تھے حالانکہ ضرورت بھی نہیں تھی۔خدا کی خاطر یہ خدا اور رسول کی محبت میں چونکہ آگے بڑھے اور انہوں نے یہ کہا کہ اے خدا ! ہمارا بھی حصہ ڈال، ہم سے بھی قربانیاں لے۔اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ خدا بھی پھر یہ فیصلہ کرتا ہے کہ ان کی ضرور مدد کرے گا۔میں نے جو یہ ذکر کیا کہ ہم مدد کرتے ہیں اللہ اور رسول کی عبادت کے ذریعہ تو دشمن شاید یہ نہیں سمجھ سکتا کہ یہ بھی کوئی مدد ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ سب سے اہم مد د عبادت ہے۔خدا اور خدا کے دین کی امداد اور اس کی نصرت کے لئے اس سے بہتر اور کوئی ہتھیار اور کوئی ذریعہ نہیں ہے اور حقیقت میں یہ عبادت کرنے والے ہی ہیں جو خدا کی محبت کو پاتے ہیں ، خدا کی توجہ کے مستحق ہوتے ہیں اور جن کی خاطر دنیا میں عظیم الشان کام دکھائے جاتے ہیں۔میں نے بارہا اس طرف توجہ دلائی ہے اور بار بار جماعت کو اس مضمون پر غور کرنے کی طرف بلایا ہے کئی طریق پر کہ عبادت کے گر سیکھو، اسی میں تمہاری طاقت کا راز ہے۔آنحضرت علی کی عظمت کا راز آپ کے عبد ہونے میں تھا۔جتنے بھی دنیا میں انبیاء آئے ہیں ان سب کی طاقت کا راز ان کے عبد ہونے میں تھا اور عبد یا عبود بیت یا عبادت یہ ایسا مضمون ہے جس کے اندر طاقت آپ کو دکھائی دیتی ہی نہیں۔کلیۂ طاقت سے خالی مضمون ہے۔پس یہ عجیب بات ہے کہ جہاں کوئی طاقت دکھائی نہیں دیتی وہاں سب سے زیادہ خدا تعالیٰ نے طاقت بھر دی ہے۔