خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 373
خطبات طاہر جلد۵ 373 خطبه جمعه ۲۳ رمئی ۱۹۸۶ء باوجود دشمن کی کوششوں کا عشر عشیر بھی اگر دوسرے پلڑے میں ڈالا جائے تو وہ اس سے زیادہ غالب آئے گا اور زیادہ قومی اور طاقتور ہوگا۔اس کے باوجود وہ کوشش کر رہے ہیں کوئی کہے گا کہ پاگل پن ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کا نام رکھا ہے وہ تنصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ اس کو خدا پاگل پن قرار نہیں دیتا۔اس کو ایمان کی ایک خصلت قرار دیتا ہے فرماتا ہے بالغیب مدد کرتے ہیں پتہ ہے جو کچھ ہم ڈال رہے ہیں اس راہ میں وہ سب ضائع ہو جائے گا بظاہر دنیا کے لحاظ سے لیکن پھر بھی وہ یقین رکھتے ہیں۔ان کو کامل ایمان ہے اس بات پر کہ جو کچھ ہم ڈال رہے ہیں یہ ضائع نہیں ہوگا بظاہر غائب ہو رہا ہے لیکن حقیقت میں اسی نے بالآخر غالب آجانا ہے اور اسی نے آخر رنگ دکھانا ہے۔دوسرا بالغیب کا یہ مضمون اس آیت میں ملتا ہے کہ مومن صرف ظاہری طور پر مدد نہیں کرتے اور یہ بھی ایک امتیازی شان ہے مومن کی جو غیر مومن کے جہاد سے اس کے جہاد کو الگ کر کے دکھاتی ہے۔جو دنیا دار خدا کے نام پر جہاد کرنے والے یا اپنی طاقت کے بل پر جہاد کرنے والے ہیں۔ان کے جہاد میں دکھاوے کا مضمون آپ کو نمایاں نظر آئے گا۔وہ قوم کو دکھا کر داد لینے کی خاطر بڑے بڑے دعوے بھی کرتے ہیں اور بڑے بڑے بظاہر ڈینگیں مارتے ہوئے کوششیں بھی کرتے ہیں لیکن مخفی طور پر ان کی طرف سے ان کے اعلیٰ مقصد کے لئے کوئی خیر جاری نہیں ہوتی۔جہاں دنیا نہیں دیکھ رہی وہاں وہ ٹھہر جاتے ہیں، جہاں دنیا دیکھ رہی ہے وہاں ان کی کوششیں تیز ہو جاتی ہیں اور مومنوں کا یہ حال ہے کہ اس وقت بھی وہ خدا کی مدد کر رہے ہوتے ہیں اور اس کے رسول کی جبکہ کوئی ان کے حال سے باخبر نہیں ہوتا۔اعلانیہ بھی مدد کرتے ہیں اور چھپ کر بھی کرتے ہیں، دن کو بھی کرتے ہیں اور رات کو اٹھ کے بھی کرتے ہیں۔لکھوکھا احمدی جب رات کو تہجد کے وقت اٹھتا ہے اور دعائیں کر رہا ہوتا ہے اور گریہ وزاری کر رہا ہوتا ہے اپنے پیارے محبوب اسیروں کو یاد کر کے یا وہ جن کے اوپر بظاہر دنیاوی موت کی تلوار لٹکائی گئی ہے ان کو یاد کرتا ہے ، ان کے لئے تڑپتا ہے، ان کے لئے بے قرار ہوتا ہے تو یہی مضمون صادق آتا ہے وَ لِيَعْلَمَ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ۔وہ اللہ اور رسول کی محبت میں غیب کے وقت اٹھ کر بھی کوشش کر رہے ہوتے ہیں اور جد و جہد کر رہے ہوتے ہیں۔کوئی ان کے