خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 360 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 360

خطبات طاہر جلد ۵ 360 خطبه جمعه ۱۶ مئی ۱۹۸۶ء تو میں آپ کی طرف سے اور اپنی طرف سے ساری جماعت کی طرف سے خدا کے حضور یہی عرض کرتا ہوں کہ لبیک اللهم لبیک اے خدا! تو ہمیں محمد مصطفی اللہ اور اپنی آواز کے جواب میں پکار کو قبول کرنے والوں میں سے پائے گا ۔ انکار کرنے والوں میں سے نہیں پائے گا ان لوگوں میں سے پائے گا جن کے متعلق تو نے گواہی دی الَّذِينَ اسْتَجَابُو اللَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ کہ باوجود بار باران راہوں میں دکھ اٹھانے کے جب بھی انہیں قربانیوں کی راہوں کی طرف بلایا گیا تو انہوں نے لبیک اللھم لبیک کرتے ہوئے قدم آگے بڑھایا، پیچھے نہیں ہٹے۔ جہاں تک دوسرے واقعہ کا تعلق ہے یعنی مسجد کوئٹہ پر حملہ کرنا اور اسے مسمار کرنے کی کوشش کرنا یا ز بر دستی اس کا قبضہ لینے کی کوشش کرنا یہ بھی ایک ایسا واقعہ ہے جس میں دشمن نے خود ہی فتح کا جھنڈا ہمارے ہاتھوں میں تھما دیا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کا یہ طریق تھا کافر کی پہچان یہ رکھتے تھے کہ جس گاؤں سے اذان کی آواز نہ آئے وہ کافروں کا گاؤں ہے اور صحابہ کو یہ تاکید ہوتی تھی کہ اگر تم اذان کی آواز نہ سنو تو پھر بے شک حملہ کر دو ۔ یہ مراد نہیں کہ جہاں سے اذان کی آواز نہ سنو وہاں حملہ آور ہو جاؤ۔ مراد یہ ہے کہ جنگ کے دوران جبکہ دشمن پہل بھی کر چکا ہو ، دشمن مسلمانوں کی جماعت کے خلاف تلوار اٹھا چکا ہو اور قتال شروع ہو چکا ہو ، اس وقت بھی جوابی حملے کی صورت میں اگر کسی گاؤں سے اذان کی آواز آجائے تو آنحضرت علی کے متعلق روایات آتی ہیں کہ ہر گز حملہ نہیں علوسه ۔ صلى الله صلى الله فرماتے تھے اور صحابہ کو بھی یہی تلقین تھی کہ جب تم اذان کی آواز سنو تو رک جاؤ۔ ( بخاری کتاب الجہاد والسیر حدیث نمبر : ۲۷۲۵) یہ آنحضرت علی کا عظیم الشان اسوہ ہے جس میں آپ نے یہ بھی چھان بین نہیں فرمائی کہ جس گاؤں سے اذان کی آواز آرہی ہے وہاں سارے مسلمان ہیں یا کچھ مسلمان ہیں اور کچھ غیر مسلم ہیں یا اکثریت غیر مسلموں کی ہے اور کہ ایک چھوٹی جماعت مسلمانوں کی ہے جن کو اذان دینے کی اجازت ہے یہ بھی تو ہو سکتا ہے۔ جو شخص خون لینے میں جلدی کرنے والا ہو، جو انتقام لینے پر تلا بیٹھا ہو اس کا طبعی رجحان تو یہ ہونا چاہئے کہ یہ معلوم کرے کہ یہ جو اذان کی آواز آئی ہے یہ سارا مسلمان گاؤں ہی ہے۔ تھوڑے سے مسلمان ہیں جن کی طرف سے اذان کی آواز آرہی ہے ۔ باقیوں کو کیوں معاف کیا جائے؟ لیکن حضرت اقد محمد مصطفی ﷺ نے یہ بھی پتا نہیں کیا ، نہ صحابہ کو اس کے متعلق ہدایت فرمائی کہ پتہ کر لیا کرو کہ کہیں کوئی اکیلا تو اذان نہیں دے رہا۔ یہی نہیں بلکہ یہ بھی