خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 357
خطبات طاہر جلد۵ 357 خطبه جمعه ۶ ارمئی ۱۹۸۶ء ان کی محرومی کا احساس بے انتہاء نازل ہونے والے فضلوں کے بوجھ تلے دب جاتا ہے اور عملاً اس کثرت سے خدا کی رحمت کی بارشیں اور فضلوں کی بارشیں ان پر نازل ہوتی ہیں کہ ان غموں کا وجود ہی مٹ جاتا ہے، دھل جاتا ہے ہمیشہ کے لئے۔پس جہاں تک جماعت احمدیہ پاکستان یا جماعت احمد یہ عالمگیر کا تعلق ہے شہادتیں ہمارے جذبہ کو کم کرنے کی بجائے ہمارے جذبہ کو اکسانے کا موجب بن رہی ہیں اور ہمیشہ اکسانے کا موجب بنتی چلی جائیں گی۔کوئی خوف نہیں ہے جو ہمیں اس راہ سے پیچھے ہٹا سکے۔کوئی غم کا ایسا تصور نہیں ہے جو ہمارے پائے ثبات میں لغزش پیدا کر سکے۔ہمارے عزم کا سر ہمیشہ بلند رہے گا اور کوئی دنیا کی طاقت نہیں ہے جو اس سر کو نیچا دکھا سکے۔ایک ایک کر کے ہمارے دشمنوں کے سر جھکیں گے کچھ ندامت کے نتیجہ میں ، کچھ خدا کے غضب کے نازل ہونے کے نتیجہ میں۔لیکن ہرگز احمدی کا سر نہیں جھکے گا اس راہ میں اور بلند تر ہوتا چلا جائے گا۔یہ ہمارا مقدر ہے جس کی خبر قرآن کریم نے ہمیں دی ہے۔یہ ہمارا مقدر ہے جس کی خبر اصدق الصادقین حضرت محمد مصطفی اللہ نے ہمیں عطا فرمائی ہے۔پس ہم ان خبروں سے خوش ہیں اور خدا کی راہ میں ہر قربانی کے لئے تیار ہیں۔جہاں تک شہید ہونے والے کے جذبات کا تعلق ہے ایک واقعہ میں نے شہادت کے بعد کا بیان کیا ہے۔ایک شہادت کے عمل سے گزرتے ہوئے جو کیفیت شہید کی تھی اس کا واقعہ بھی آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔یہ جنگ احد ہی کا واقعہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت سعد بن ربیع کو نہ پا کر جو انصار کے رئیس تھے اور آنحضرت ﷺ سے بے انتہا عشق رکھتے تھے۔آپ کو نہ دیکھ کر ان کے پیچھے آدمی دوڑائے کہ تلاش کر وسعد بن ربیع کہاں ہیں۔وہ زندہ بھی ہیں یا شہید ہو چکے ہیں۔آپ نے فرمایا آخری مرتبہ جب میں نے دیکھا تھا تو وہ دشمنوں کے نرغے میں بری طرح گھرے ہوئے تھے۔ایک انصاری صحابی ابی بن کعب آنحضرت ﷺ کے ارشاد کی تعمیل میں سعد کو تلاش کرتے پھر رہے تھے اور بار بار اونچی آوازیں دے رہے تھے کہ سعد ! تم کہاں ہولیکن کوئی جواب نہیں آتا تھا۔مایوس ہو کر جب واپس لوٹنے لگے تو اچانک ان کے دل میں ایک عجیب خیال آیا کہ ہو سکتا سعد زندہ ہو لیکن اتنا کمزور ہو چکا ہو، اتنی نقاہت ہو کہ میری آواز پر وہ جواب دینے کی زحمت ہی نہ کرے یعنی اس کو ضرورت محسوس ہی نہ ہو کہ میں زور لگا کر جواب دوں ، میری آواز کے کیا معنی ہیں۔چنانچہ اس خیال الله