خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 356 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 356

خطبات طاہر جلد۵ 356 خطبه جمعه ۶ ارمئی ۱۹۸۶ء اس آیت کی شان نزول میں ان کا ذکر ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو گیا۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ قرآن کریم شان نزول سے مستغنی جو نازل ہونا تھا وہ بہر حال نازل ہونا تھا یہ واقعہ ہوتا یا نہ ہوتا۔ان آیات میں جو لوح محفوظ میں لکھی جا چکی تھیں ہمیشہ کے لئے۔انہوں نے ضرور قلب مطہر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر لکھا جانا تھا۔یہ ایک ایسی تقدیر تھی جسے بدلا نہیں جا سکتا لیکن اس ضمن میں ایک شخص کو یہ سعادت بھی مل گئی کہ اس کا نام شان نزول کے طور پر لکھا گیا اور ہمیشہ کے لئے اس کا نام اس عظیم الشان آیت کے ساتھ منسلک ہو گیا۔پس جہاں تک ہمارے شہید ہونے والے بھائیوں کا تعلق ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے لئے کوئی غم نہیں۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جو شہادت کی معرفت رکھنے والی قومیں ہیں وہ اس غم کو خواہ مخواہ دل سے لگا کر نہیں بیٹھ جایا کرتیں۔وقتی طبی تقاضے بہر حال ہوتے ہیں جیسے آنحضرت ﷺ نے اپنے ایک بچپن میں فوت ہونے والے بیٹے کو قبر میں اتارتے وقت جب آنسو بہائے تو ایک صحابی نے نادانی میں یہ عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ اور آنسو؟ آپ نے فرمایا یہ تو رحمت ہے اور مجھے رحمت سے حصہ دیا گیا ہے۔جس بد قسمت کو رحمت کا علم نہیں میں اس کے لئے کیا کر سکتا ہوں۔(مسلم کتاب الجنائز حدیث نمبر (۱۵۳) پس دل کا نرم ہونا اور اپنے پیاروں کے لئے آنسوؤں کا بہنا یہ وہ حزن نہیں ہے جس کی نفی یہاں فرمائی گئی ہے بلکہ جس حزن کی نفی پیچھے رہنے والوں کے متعلق فرمائی گئی ہے وہ حزن ہوتا ہے جو جان لیوا ثابت ہوتا ہے یا دل کے ساتھ لگ کر بیٹھ جاتا ہے ہمیشہ کے لئے اس کے ساتھ مایوسیاں چھٹ جاتیں ہیں، حسرتیں اس کے وجود کا حصہ بن جاتی ہیں۔شہادت پانے والوں کے لئے اس قسم کا غم کوئی مومن نہ محسوس کر سکتا ہے نہ مومن کی شان ہے کہ ایسے جاہلا نہ غم میں مبتلا ہو۔بہت ہی بڑا انعام ہے، بہت ہی بڑا مرتبہ ہے جو شہادت پانے والوں کو نصیب ہوتا ہے۔اس لئے ان کے لئے جدائی کا غم یا ان کے پسماندگان کا احساس یا بعض دفعہ یہ احساس کہ ہم کیوں نہیں تھے اس کی جگہ۔یا یہ احساس کہ ان کے بیوی بچوں کی بجائے ہمارے بیوی بچے کیوں ان قربانیوں سے محروم رہے یہ ایسے غم ہیں جو وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ کی نفی نہیں کرتے۔یہ آیت اپنی جگہ قائم رہتی ہے اور اس کے باوجود اس قسم کے رحمت سے تعلق رکھنے والے غم مومنوں کے وجود پر وقتی طور پر قبضہ بھی کر لیتے ہیں لیکن بالآخر یہ غم خوشیوں میں تبدیل کئے جاتے ہیں۔بالآخر ان کو کھونے کا احساس،