خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 355
خطبات طاہر جلد۵ 355 خطبه جمعه ۶ ارمئی ۱۹۸۶ء ہیں۔پس یہی آیت ہے جو میں نے پڑھ کر سنائی اس کی تفسیر میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے وہ واقعات بیان فرمائے جو براہ راست اللہ تعالیٰ نے آپ سے بیان فرمائے۔(ترمذی کتاب التفسیر حدیث نمبر ۲۹۳۶) اس میں وہ سارے پہلو روشن ہو جاتے ہیں جن کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ سے اولاً وہ لوگ مراد ہیں جن کو قربانی کی توفیق مل جاتی ہے۔جہاں تک پیچھے رہ جانے والوں کا تعلق ہے پر طبعی طور پر ، فطری طور پر ان کے دل پر کچھ نہ کچھ غم ضرور اثر کرتا ہے ورنہ آنحضرت ﷺ کی تربیت پانے والے صحابہ میں سے کوئی بھی کسی شہادت پر غم نہ کرتا اور خود حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ بھی بعض شہید ہونے والوں کی جدائی پر مغموم نہ ہوتے۔لیکن ساتھ ہی اس کے دوسرے پہلو بھی روشن ہوئے کہ شہداء کا جہاں تک تعلق ہے ان کو نعمت مل چکی ہوتی ہے اس لئے نعمت پر ان کے مغموم ہونے کا سوال ہی کوئی نہیں۔نعمت پر تو مزید کی حرص پیدا ہوتی ہے۔اور ان کی یہ تمنا کہ پھر لوٹائے جائیں اور پھر خدا کے رستہ میں شہید ہوں اور پھر لوٹائے جائیں اور پھر خدا کے رستے میں شہید ہوں بتاتی ہے کہ حقیقتاً اس نعمت کی لذت کو وہ پاگئے ، اس کی معرفت کو انہوں نے حاصل کر لیا ورنہ مزید اس قربانی کی تمنا ان کے دل میں اس شدت سے پیدا نہیں ہو سکتی تھی۔عجیب واقعہ ہے کہ جزا کے لئے خدا پوچھ رہا ہے اور جزا میں قربانی مانگی جارہی ہے۔اس قربانی میں یقیناً بے انتہا لذت ہوگی اور نہ اس کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے کہ وقت جزا کا ہو اور جزا کے بدلے جس خدمت کی جزا دینے کے لئے پوچھا جارہا ہے وہی خدمت دوبارہ مانگی جارہی ہو۔اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ شہادت اپنی ذات میں ایک انعام ہے۔شہادت کا انعام اور جو ہو گا وہ ہو گا لیکن شہید کے لئے شہادت خود انعام ہے اور اس انعام کے ساتھ اس کو ایسا پیار ہو جاتا ہے کہ بار بار اسی انعام کا تقاضا کرتا ہے۔دوسرے یہ کہ جو پیچھے رہنے والوں کا غم ہے اسے دور کرنے کی خاطر شہداء خود خدا سے یہ عرض کرتے ہیں کہ انہیں اس بات کی اطلاع کر دی جائے۔اگر غم ہوتا ہی کوئی نہ اور غیر فطری بات ہوتی تو شہداء کو خدا کے حضور یہ عرض کرنے کی کیا ضرورت تھی اور کیوں اللہ تعالیٰ ان کی اس التجا کو قبول فرما کر ہمیں ان حالات سے مطلع فرماتا۔یہ بھی حضرت جابر کے والد کو ایک عظیم الشان انعام ملا ہے کہ