خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 345
خطبات طاہر جلد۵ 345 خطبه جمعه ۹ رمئی ۱۹۸۶ء رمضان سے بہتر اور کوئی موسم نہیں۔بعض لوگ خوفزدہ ہوتے ہیں اس مہینے سے بعض لطف اٹھانے کے باوجود پھر بھی اس لحاظ سے ضرور ڈرتے ہیں کہ ہم اس کی ذمہ داریوں کو ادا کر سکیں گے کہ نہیں۔پس اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں ان ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی توفیق بخشے۔اور جو ہم ادا نہ بھی کر سکتے ہوں ہماری جھولی میں اُن کی خیرات بھی ڈال دے، ان کمیوں کے لحاظ سے بھی ہم پر فضل نازل فرما دے۔آمین۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: کچھ جنازہ ہائے غائب کی نماز ہوگی ان کا میں اعلان کر دیتا ہوں۔نماز جمعہ کے معاً بعد صفیں بنالیں :۔مکرم سرفراز احمد خان صاحب ابن ڈاکٹر ممتاز علی خان صاحب آف الہ آباد ضلع راجن پور۔یہ آرمی میں بطور لانس نائیک ملازم تھے اور ایک حادثہ میں شہید ہو گئے۔تدفین کے چند روز بعد باوجود اس کے کہ اس کے آبائی گاؤں کے اکثر غیر احمدی شرفاء نے خود ان کی الگ نماز جنازہ بھی پڑھی اور بے انتہا ہمدردی اور محبت کا سلوک کیا لیکن ارد گرد کے علماء نے شور کیا اور اس قدر فساد برپا کیا کہ حکومت نے زبر دستی بہت بڑی پولیس کی جمعیت بھیج کر چند روز کے بعد ان کی قبر کھدوا کر ان کی لاش کو زبر دستی قبرستان کی بجائے ان کی اپنی زمین میں دفن کر دیا۔ان کے والد صاحب کا بڑا اس سلسلہ میں درد ناک خط موصول ہوا ہے اور خاص طور پر انہوں نے ان کے لئے دعا کی درخواست کی ہے لیکن ساتھ ہی یہ اللہ تعالیٰ کی شان بھی بیان کی ہے کہ کئی دن کے بعد جب کہ بظاہر مردہ گل سڑ جانا چاہئے تھا خصوصاً حادثے کا شکار ہو اور نو جوان ہواس کی لاش تو بڑی جلدی گلنا سڑنا شروع کر دیتی ہے لیکن جب قبر کھودی گئی تو بالکل صحیح سلامت اسی حالت میں تھی جس حالت میں وہ دفن کی گئی تھی۔اس گاؤں کے غیر احمدی شرفاء خود کندھا دے کر اس کو لے کر گئے ہیں دوسری طرف اور وہاں جا کر اس کی تدفین کی۔مکرم مرزا منور بیگ صاحب ہمارے للیانی ضلع لاہور کے بہت مخلص دوست تھے۔میں بھی ان کے گاؤں میں گیا ہوں۔غالباً یہ زعیم انصار اللہ بھی تھے۔ان کے متعلق اطلاع ملی ہے کہ ان کو کسی نے گولی مار کر شہید کر دیا ہے اور چونکہ ان کی ذاتی دشمنی کوئی نہیں تھی اور کوئی قتل کی اور وجہ