خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 344 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 344

خطبات طاہر جلد۵ 344 خطبه جمعه ۹ رمئی ۱۹۸۶ء کھلا ئیں ان کو ان نعمتوں کا، ساتھ لے کر چلیں لیکن سختی کر کے نہیں محبت اور پیار سے اور اس رمضان المبارک میں اُن کو دعا کی عادت ڈالیں۔سب سے زیادہ مؤثر طریق نوجوان نسلوں کو دین کی طرف مائل کرنے کا یہ ہے کہ اُن کو دعا کی عادت ڈالی جائے ، ان کے لئے دعا کریں مگر یہ زیادہ بہتر طریق ہے کہ اُن کے لئے دعا کرنے کا کہ ان سے کہیں کہ اس بات کے لئے دعا کرو۔اور آپ دعا ئیں یہ کریں کہ اے اللہ ! اُن کی دعا قبول کرلے۔جو بچہ اس تجر بہ میں سے گزر جاتا ہے اس کے اندر حیرت انگیز تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔اور بچپن میں جس شخص کو قبولیت دعا کا لطف حاصل ہو جائے ساری زندگی بڑھاپے تک وہ لطف اس کا نہ بھول سکتا ہے، نہ اس کا پیچھا چھوڑتا ہے اسے چسکا پڑ جاتا ہے۔اس لئے نئی نسلوں کو سنبھالنے کا اس سے بہتر طریقہ میں اور نہیں سوچ سکتا کہ اُن کو دعا کی عادت ڈالی جائے اور آپ دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ اُن کی دعائیں قبول کرے اور اُن کو اپنا بنا لے۔پس اس رمضان کو ہر لحاظ سے خیر و برکت کا موجب بنا ئیں۔اتنا مانگیں، اتناما نگیں کہ بظاہر آپ کا پیٹ بھر جائے۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ اللہ کے فضل تو اتنے بے شمار ہیں آپ اُن کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔نہ سارے مانگ سکتے ہیں نہ اُن سے پیٹ بھر سکتا ہے کیونکہ جب وہ فضل نازل ہوتے ہیں تو ہاضمے کی قوت بڑھا دیتے ہیں ساتھ ہی ، مزید کی طلب خود ہی پیدا کر جاتے ہیں۔ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے خدا کی سمت حرکت کا۔پس اگر ہم رمضان کے سارے تقاضے پورے کرنے والے ہوں، جو محروم ہیں رمضان کی دعاؤں سے ، عبادتوں سے ، ان کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں، اپنے غرباء کو یاد رکھیں ، اپنے امراء کو یاد رکھیں ، محروموں کو یاد رکھیں۔خصوصیت سے پاکستان میں جو حالات ہیں اُن کو پیش نظر رکھ کر احمدیت کی فتح کی دعائیں کریں لیکن وہ فتح جو خدا کی اصطلاح میں فتح ہے، بندوں کا تماشا فتح نہیں چاہئے بلکہ وہ فتح جسے اللہ فتح کہتا ہے ، جسے اللہ ظفر قرار دیتا ہے۔ان دعاؤں کے ساتھ رمضان گزاریں اور میں امید رکھتا ہوں کہ اس رمضان سے جب ہم نکلیں گے تو بالکل نئی کیفیت کے ساتھ نکلیں گے۔- حقیقت یہ ہے کہ ہر موسم کے ساتھ ایک تبدیلی ہوا کرتی ہے اور روحانی تبدیلیوں کے لئے