خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 339 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 339

خطبات طاہر جلد۵ 339 خطبه جمعه ۹ رمئی ۱۹۸۶ء عارفانہ کلام پر غور کریں تو پھر دعا کا مضمون ایک پورا جہان بن کر آپ کے سامنے ظاہر ہوتا ہے اور بظاہر دو تین آیتوں کے اندر سارا مضمون سمیٹا ہوا دکھائی دے گا۔تو یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دعا کی معرفت بھی عطا فرمائے۔خدا تعالیٰ سے خدا تعالیٰ کو مانگنے کی توفیق عطا فرمائے، اس کا سلیقہ اور ذوق بخشے کیونکہ اس ذوق کے بغیر باقی ساری باتیں بے معنی ہو جائیں گی اور پھر ذوق کے ساتھ ذوق طلب ہی نہیں ذوق عمل بھی عطا فرمائے تا کہ طلب میں قوت پیدا ہو جائے۔اس دعا کے ساتھ اگر رمضان گزارا جائے اور وہ لمحے نصیب ہو جائیں کہ جب دعا قبول ہوتی ہے تو پھر ایک ہی رمضان میں لکھوکھہا سال کی سعادتیں انسان کو نصیب ہوسکتی ہیں، کروڑ ہا سال کی سعادتیں انسان کو نصیب ہو سکتی ہیں۔اور یہ بھی محض گنتیاں ہیں ان کی حیثیت کوئی نہیں کیونکہ جب میں نے جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا ہے ،خدا کے تعلق میں جب ہم باتیں کرتے ہیں تو ہمارے انسانی الفاظ بے حقیقت ہو جاتے ہیں۔وہ اس مضمون کو ساہی نہیں سکتے۔صرف ایک انسانی تصور ہے جسے کسی نہ کسی حد تک سمجھانے کی خاطر ہم یہ الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ورنہ ایک لمحہ بھی اگر اس دعا کا مقبول ہو جائے کہ اے خدا! میں تجھ سے تجھے ہی مانگ رہا ہوں تو سب کچھ حاصل ہو گیا۔اس لئے اول درجہ پر اس دعا کی طرف میں متوجہ کرتا ہوں اور اس کے بعد دوسری دعائیں جو خاص طور پر جماعت کو اس سارے رمضان میں کرنی چاہیں اور پہلے بھی جماعت کرتی ہے یاد دہانی کے طور پر محض میں گنا دیتا ہوں:۔بنی نوع انسان کے لئے ، اسلام کے لئے ، عالم اسلام کے لئے ،احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے لئے ان معنوں میں کہ دنیا میں اسلام اور احمدیت اسی طرح ہر ایک کو ایک نظر آنے لگیں جس طرح ہمیں ایک نظر آتے ہیں جس طرح خدا انہیں ایک دیکھتا ہے۔واقفین زندگی کے لئے ، ان کے اعزاء و اقارب کے لئے ، دین کی خدمت کرنے والوں کے لئے ، خواہ وہ کسی رنگ میں بھی خدمت کی توفیق پارہے ہوں ، ان کے لئے جنہیں خدمت دین کا ابھی لطف میسر نہیں آیا اُن محروموں کے لئے بھی۔اللہ کی دعوت دینے والوں کے لئے ، اُن کے لئے جن کو خدا کی طرف بلایا جاتا ہے، مالی قربانی کرنے والوں کے لئے بھی اور اُن کے لئے بھی جو مالی قربانی کی حسرت رکھتے ہیں اور اُن کے لئے بھی جو اس لذت سے ابھی تک لذت آشنا نہیں ہوئے۔