خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 335
خطبات طاہر جلد۵ 335 خطبه جمعه ۹ رمئی ۱۹۸۶ء ہمیں بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے دعاؤں کے معاملے میں مایوسی کی ضرورت نہیں لیکن ادنی پر راضی نہ رہو۔چابی حضوراکرم ﷺ نے ہمارے ہاتھوں میں تھما دی۔اب اس عقدہ کشائی کا کام ہمارے ذمہ ہے۔جتنا زیادہ ہم اللہ تعالیٰ کے حضور امنا و صدقنا سمعنا و اطعنا کہتے ہوئے حاضر ر ہیں گے۔اُتنا ہی زیادہ ہماری دعاؤں میں قوت پیدا ہوتی چلی جائے گی ، جتنا ہی زیادہ ہم اللہ تعالیٰ کے ارشادات کی پیروی کے لئے مستعد اور تیار رہیں گے اسی قوت اور اسی تیزی کے ساتھ خدا تعالیٰ سے استجابت کے نمونے دیکھیں گے۔یہی حال قریب کا بھی ہے۔خدا تو جہاں تک جگہ کا تعلق ہے ہر جگہ موجود ہے یعنی اُس کے لئے تو نہ مشرق نہ مغرب نہ اونچ نیچ، کوئی سمت ہی نہیں ہے۔وہ حاضر ہے اور جب ہم باتیں کرتے ہیں موجودگی کی تو ہمارے الفاظ اور معنے رکھتے ہیں کیونکہ ہم محدود ہیں اور ہم دوسری چیزوں کو بھی محدود د یکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کا مطلب اس کا حاضر رہنا ہے ہر وقت، وہی وجود ہے جس کی حاضری سے باقی کائنات بنتی ہے۔اس لئے اس کو مشرق مغرب، بلند پستی ، دائیں بائیں، کے اعداد و شمار یا ان کے معنی سے ناپا نہیں جاسکتا۔وہ ایک ہی چیز ہے جو حاضر ہے اگر حاضر نہ ہو تو کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔اس لئے ایسے قریب وجود سے محروم رہنے کا بظاہر تصور ہی کوئی نہیں لیکن اتنے قریب ہونے کے باوجود بھاری اکثریت انسانوں کی اُس سے محروم رہ جاتی ہے۔اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ وہ قریب نہیں ہے۔إنِّي قَرِيبٌ یہ بتانے کے لئے ہے کہ میں تو بہر حال قریب ہوں۔اگر پھر بھی تمہاری بات نہیں مانی جاتی تو تم بعید ہو، تم مجھ سے دور ہو چکے ہو ، اس لئے اپنی فکر کرو، تم آ بھی سکتے ہو جا بھی سکتے ہو۔میں تو اپنے ہر وجود کے ساتھ ہمہ وقت حاضر رہتا ہوں۔اس لئے تم اگر میری طرف متوجہ ہو گے تو روحانی معنوں میں معنوی طور پر تم میرے قریب آجاؤ گے اور اگر تم مجھ سے عدم توجہ کرو گے تو تم معنوی لحاظ سے مجھ سے دور ہٹتے چلے جاؤ گے۔لیکن اگر میرے قریب آنا چاہو تو فاصلے تمہیں ہی طے کرنے پڑیں گے۔صرف تمہارے فیصلے کی بات ہے اور ایک ہی لمحے کا فیصلہ تمام فاصلے طے کر دے گا اور اچانک تم مجھے موجود پاؤ گے۔یہ وہ مضمون ہے جسے یہ آیت بیان فرماتی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس قرب کے مضمون کے متعلق بہت تفصیل سے مختلف مواقع پر روشنی ڈالتے ہیں اور یہ راز ہمیں سمجھاتے